Ad

Ad

Showing posts with label Islamic Countries History. Show all posts
Showing posts with label Islamic Countries History. Show all posts

Wednesday, 12 September 2012

مسلم دنیا کے اہم مسئلے Muslim Duniya K Masahil


مسلم دنیا کے اہم مسئلے
کشمیر
وادی جنت نظیر، کشمیر گزشتہ باسٹھ بس سے جبر و استبداد اور ظلم کی انتہا کا نشانہ ہے۔ اس کا رقبہ 84000مربع میل اور آبادی ایک کروڑ ہے۔ 14اگست 1947ءکے بعد انڈی پینڈنس ایکٹ کی دفعہ نمبر 7کی رو سے تمام ہندوستانی ریاستوں مےں، جن کی تعداد 562تھی، برطانیہ کا عمل دخل ختم ہوگیا اور ریاستوں کو یہ حق دیا گیا کہ وہ اپنی مرضی سے بھارت یا پاکستان سے الحاق کریں۔ تاہم گورنر جنرل لارڈ ماﺅنٹ بیٹن نے حکمرانوں کو مشورہ دیا کہ وہ الحاق کے وقت جغرافیائی محل وقوع، عوام کی خواہشات، آبادی کے فرقہ وارانہ تناسب کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کریں۔ تین روز بعد ریاست جوناگڑھ، حیدر آباد اور کشمیر کے الحاق کے متعلق دونوں ممالک مےں جھگڑا کھڑا ہوگیا۔ جوناگڑھ مےں ہندوﺅں کی اکثریت تھی۔ مگر نواب نے اس کا الحاق پاکستان سے کیا جسے ہندوستان نے ماننے سے انکار کر دیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ ہندوﺅں کی آبادی والی ریاست ہندوستان مےں شامل کی جائے۔ مگر کشمیر کے مسئلے پر وہ اس نقطہ نظر کو نہیں مانتا۔
ریاست کشمیر کی 80فی صد آبادی مسلمان ہے۔ یہ علاقہ پاکستان سے ملا ہوا ہے۔ سیاسی، اقتصادی، جغرافیائی اور دیگر تقاضوں سے یہ پاکستان کا حصہ بنتا ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے اسے پاکستان کی شہ رگ قرار دیا۔ اس خطہ کی آبادی پچھلی چھ صدیوں سے مسلمان چلی آرہی ہے۔ پاکستان کے تمام بڑے دریاﺅں کا منبع کشمیر ہے۔ بھارت کے ساتھ ریاست کی سرحد 50میل لمبی ہے جبکہ پاکستان کے ساتھ 384میل لمبی ہے۔ اس کے جنوب اور مغرب مےں پاکستان واقع ہے۔ شمال مےں چین اور روس مشرق مےں تبت اور جنوب مشرق مےں بھارت واقع ہے۔ 27اکتوبر 1947ءکے روز بھارت نے اپنی افواج وادی مےں اتار دیں۔ بھارت اس کے 3/4حصے پر قابض ہوگیا۔ مگر یہاں کے لوگوں نے غیر ملکی فوجوں کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ اس مسئلہ پر مئی 1948ءمےں پاکستان اور بھارت کی افواج مےں جنگ ہوئی۔ اقوام متحدہ نے یکم جنوری 1949ءکو جنگ بند کروا دی۔ جس حصہ کو کشمیری عوام نے بھارت سے آزاد کروایا اس کا نام آزاد کشمیر رکھا گیا اور یہاں انتخابات کے بعد صدر، وزیراعظم اور کابینہ نامزد کئے گئے جس نے آزاد علاقے کا کنٹرول سنبھالا ہوا ہے۔
اقوام متحدہ سمیت رائے شماری کے جتنے بھی مصالحتی فارمولے پیش ہوئے۔ پاکستان نے ان کو تسلیم کیا ہے اور بھارت ان کو رد کرتا رہا ہے۔ اس مسئلہ پر 1965ءمےںبھی پاک بھارت جنگ ہوئی۔ بھارتی افواج نے اس دوران مےں خواتین کی بے حرمتی کی۔ نوجوانوں، بوڑھوں اور بچوں کو شہید کیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔ روزانہ کشمیری مسلمانوں پر ظلم ڈھائے جاتے ہےں۔
گزشتہ نصف صدی سے مسلمان کشمیر کی آزادی کے لئے جنگ لڑ رہے ہےں۔ اقوام متحدہ مےں یہ حل طلب مسئلہ عالمی ضمیر کی سنگ دلی اور بھارتی حکومت کے وحشیانہ ظلم و ستم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انسانی حقوق کی جو خلاف ورزیاں یہاں ہوئی ہےں، بھارتی حکومت چاہے جتنا بھی انکار کرے، بین الاقوامی اداروں کے شائع کردہ اعدادوشمار خود یہ کہانی سناتے ہےں۔ 2005ءمےں ”میڈیسنز سینز فرنٹیرز“ نامی بین الاقوامی تنظیم کی طرف سے ایک رپورٹ شائع ہوئی جس مےں بتایا گیا کہ کشمیری خواتین جنسی تشدد کی دنیا بھر مےں سب سے بدترین شکار ہےں۔ اس تنظیم نے اپنی رپورٹ تیار کرنے کےلئے جن خواتین سے رابطہ کیا ان مےں سے 11.6فیصد نے بتایا کہ انہیں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ جنوری 1989ءسے لے کر 31جولائی 2009ءیہاں 92206افراد کو شہید کیا گیا، زیر حراست جو افراد شہید کئے گئے ان کی تعداد 6959ہے۔ 116333کو گرفتار کیا گیا۔ 105754آتش زدگیوں اور مال اسباب کی بربادی کے واقعات ہوئے۔ 22696خواتین بیوہ ہوئیں اور 107262بچے یتیم ہوگئے۔ 9885خواتین کو اجتماعی زیادتی یا جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ 

چیچنیا
اس وقت جبکہ دنیا اکیسویں صدی مےں داخل ہونے والی ہے اور ہر طرف یہ نعرہ بلند کیا جا رہا ہے کہ دنیا اب اس مقام پر پہنچ گئی ہے کہ وہ اپنے جھگڑے جنگ کے ذریعے نہیں بلکہ مذاکرات کے ذریعہ حل کرے تاکہ یہ دنیا مکمل امن کا گہوارہ بن سکے، لیکن دوسری طرف دیکھا جائے تو یوں محسوس ہو رہا ہے کہ جہاں مسلمانوں کے حقوق کی بات آتی ہے تو تمام غیر مسلم طاقتیں ہر ممکن طریقے سے ان حقوق کو پامال کرتی نظر آتی ہےں اور امن کے اس بے بنیاد نعرے کو سب سے زیادہ شدت سے جوالاپ رہے ہےں، وہی اس کی دھجیاں اڑاتے نظر آتے ہےں۔ ان کا یہ قول و فعل مےں تضاد ہمیں کہیں اسرائیل کی صورت مےں نظر آتا ہے اور کہیں کشمیر کی.... بوسنیا اور قبرص بھی اس کی تصویر ہےں، اس تضاد کی واضح مثال چیچنیا بھی ہے، جہاں کے لوگوں کا صرف اس لئے قتل عام ہو رہا ہے کہ وہ مسلمان ہےں۔
بحیرہ ¿ اسود اور بحیرہ ¿ خزر کے پہاڑوں مےں واقع جمہوریہ چیچن شمالی قفقاز کی ان سات ریاستوں مےں سے ایک اہم ریاست ہے جن پر روس نے انیسویں صدی مےں قبضہ کر لیا تھا۔ روسی تسلط سے پہلے یہ ریاستیں متحدہ قفقاز کے نام سے جانی جاتی تھیں لیکن 1924ءمےں اس خوف کے پیش نظر کہ متحدہ قفقاز قبضے کو مستقل برقرار رکھنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے، روس نے اس خطے کو سات ریاستوں مےں تقسیم کر دیا۔ 
12 لاکھ آبادی اور 18ہزار کلومیٹر رقبے پر مشتمل اس ریاست نے 3نومبر 1991ءکو آزادی کا اعلان کیا۔ یہ قفقاز کے علاوہ کہ قاف کے نام سے بھی مشہور ہے۔ آٹھویں صدی عیسوی مےں یہاں کے لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ 1813ءمےں اس علاقے کو روس کے سپرد کر دیا گیا۔ شیخ منصور نے 1780ءسے 1791ءتک اور امام شامل نے 1830ءسے 1859ءتک روسیوں سے جنگ کی اور ایک ایک جنگل اور مورچے مےں روسیوں کو عبرتناک نقصان پہنچایا۔ 1857ءمےں روسی افواج نے مکمل حملہ کیا۔ قصبے اور دیہات تاراج کر دیئے اور غارت گری کا ایک بازار گرم کر دیا۔ امام شامل کے مریدوں نے مسلح جنگ جاری رکھی۔ شیشانیوں کو مطیع کرنے کے لئے روسی 1817ءسے 1864ءتک برسر پیکار رہے۔ زاروں کی شکست کے بعد 1924ءمےں اسے سوویت یونین مےں شامل کر لیا گیا۔ 1983ءمےں یہاں روسیوں کی آبادی 35فیصد اور شیشانی وقفقازی مسلمانوں کی آبادی 65فی صد تھی۔
اس سرزمین پر روس نے اپنا تسلط تو قائم کر لیا لیکن وہ اس سرزمین کے کوہستانی مسلمانوں کے دل و دماغ سے آزادی کا خواب نہ کھرچ سکا اور چیچن کے مسلمانوں کے دلوں مےں آزادی کی خواہش اور جذبہ بدستور موجزن رہا۔ یہ چیچن کے مسلمانوں کے رگ و پے مےں سرایت کی ہوئی آزادی کا ہی اعجاز تھا کہ اس وقت جب زار شاہی قفقاز کے مسلمانوں کو کچلنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی تھی تو مشہور روسی شاعر الیگزنڈرپش کن نے اسے مشورہ دیا تھا کہ مسلمان قبائلیوں کو سماواروں مےں بھری چائے اور مسیحی مشنریوں کے ذریعے رام کرو، اسی شاعر نے 1859ءمےں ایک مرتبہ پھر جب بالآخر امام شاملؒ روسیوں کے ہاتھوں گرفتارہوئے، اپنی حکومت کو مشورہ دیتے ہوئے کہا تھا وہ مسلمان قبائل کو بندوق کے ذریعے رام کرنے کا خواب بھول جائے۔
1988ءکے بعد روس کا زوال شروع ہوا اور لتھوانیا، اسٹونیا، لٹویا، بیلا روس، مالدووا، ازبکستان، آذربائیجان، کرغیزستان، آرمینیا، ترکمانستان، یوکرائن، تاجکستان اور قازقستان نے یکے بعد دیگرے روس سے علیحدگی کا اعلان کر دیا اور آزاد دنیا نے ان سب نئے ممالک کو خوش آمدید کہا۔
چیچنیا، تاتارستان، انگیشیا وغیرہ کی طرح رشین فیڈریشن کا حصہ تھا۔ جب چیچنیا نے ایک ریفرنڈم کے ذریعے آزادی کا اعلان کیا تو روسی فیڈریشن نے اس کو بغاوت سے تعبیر کیا اور تین سال تک خالی خولی دھمکیوں سے الگ ہونے والی جمہوریا کو واپسی پر مجبور کیا لیکن مجبوریہ کے منتخب صدر میجر جنرل داﺅدوف نے برملا اس عزم کا اظہار کیا کہ چیچن سرزمین کسی دور مےں بھی روسی فیڈریشن کا حصہ نہیں رہی اس لئے روس کو اس علاقے پر اپنا حق جتانے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ صدر بورس یلسن نے گروزنی شہر مےں متوازن حکومت قائم کرنے کی کوشش کی لیکن اس کے منفی نتائج برآمد ہوئے اور عوام الناس کی ہمدردیاں میجر جنرل جوہر کے ساتھ اور بڑھ گئیں۔ 
11دسمبر 1994ءکو روسی پارلیمنٹ ”ڈیوما“ نے چیچنیا کے خلاف فوجی کارروائی کی اجازت دے دی، فضائی بیڑے نے گروزنی کو مطیع کرنے کے لئے فضائی حملے کئے اور مجاہدین کی پناہ گاہوں پر شدید بمباری کی۔ اس کے نتیجے مےں پچپن ہزار قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوگئیں۔ اٹھارہ ہزار فٹ بلند پہاڑوں سے مجاہدین نے روسیوں پر حملے جاری رکھے اور وطن کا وسیع علاقہ آزاد کرا لیا۔ صدر بورس یلسن اور ان کے حواریوں نے عالمی پیمانے پر چیچنیا کو داخلی مسئلہ قرار دیا۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی،امریکہ اور دیگر ممالک نے مسلمانوں کے قتل عام پر خاموشی اختیار کی۔ کئی مواقعے پر روس اور امریکہ کے سربراہ اکٹھے ہوئے اور امریکی صدر نے چیچنیا کے مسئلے پر خاموشی اختیار کر رکھی جبکہ روسی صدر نے جواباً امریکہ کے فلسطین اور عرب خلیجی ممالک مےں نفوذ پر خاموشی اختیار کی اور چیچنیا کے بے کس و مظلوم شہری اپنی جانیں مادر وطن کی آزادی پر نچھاور کرتے رہے تاہم مغربی ذرائع ابلاغ نے یہ واویلا ضرور کیا کہ جوہر داﺅدیوف دوسرا امام شامل بن رہا ہے۔
جغرافیائی لحاظ سے جمہوریہ چیچن کا محل وقوع انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے شمال مےں داغستان، جنوب مےں جارجیا، مغرب مےں انگشتیا اور شمال مےں رشین فیڈریشن واقع ہےں۔ ریاست مےں شاہراہوں اور ریل کا اہم مواصلاتی نظام قائم ہے جس کا مختلف ریاستوں کے ذریعے مشرقی یورپ سے رابطہ قائم ہے۔ 
جمہوریہ چیچن کی تاریخ عزم و ہمت اور شجاعت کے لازوال کارناموں کی روشن دستاویز ہے۔ بندوق کو گلے مےں لٹکائے، گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر بیٹھ کر جوانی کی دہلیز پر رکھنے والی قوم کا ہر فرد آزادی اور خودداری کو اپنا جزو ایمان گروانتا ہے۔
چیچن کے اعلان آزادی کے ساتھ ہی ماسکو پر گویا سکتہ طاری ہوگیا۔ ماسکو کے پہلو مےں واقع یہ ریاست روس کے لئے فی الحقیقت زندگی اور موت کا سوال بن گئی۔ سونے کی یہ چڑیا جہاں جغرافیائی ہیئت کے اعتبار سے روس کے لئے بڑی اہمیت کی حامل ہے، وہیں اقتصادی اعتبار سے بھی اس کی بڑی اہمیت اور انتہائی حساس نوعیت ہے۔ قدرت نے اس ریاست کو بے انتہا معدنی دولت سے نوازا ہے حکومت روس اپنی تیل کی ضروریات کا اسی فی صد (80%) حصہ اسی ریاست سے پورا کرتی ہے۔ مزید برآں روس کی تقریباً تمام آئل ریفائنریز یہیں پر واقع ہےں۔ اس لحاظ سے روس کی اقتصادی ”قوت“ چیچن کی مٹھی مےں قید ہے۔ 
یہ انہی مجبوریوں کا تقاضا تھا کہ روس نے چیچن کے اعلان آزادی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور صدر بورس یلسن نے ریاست مےں ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد صدر جعفر داﺅد کو حکم دیا کہ فوراً اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں بصورت دیگر سنگین نتائج کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہو جائیں لیکن جعفر داﺅد کی جوابی حکمت عملی کے سامنے اس کی ایک نہ چلی تو روسیوں نے اپنی اس پالیسی مےں کچھ تبدیلیاں پیدا کیں اور براہ راست مداخلت سے پہلے اندرونی سرزمین ہموار کرنے کے لئے چیچن مہروں کے ہی انتخاب کی حکمت عملی پر سوچ بچار شروع کر دیا۔ اس ضمن مےں انہیں جلد ہی چند لوگوں کی عملی مدد حاصل ہوگئی۔ ان لوگوں نے اپنی ہی حکومت کے خلاف روس سے اسلحہ اور دوسری مراعات لےکر علیحدہ ملیشیا قائم کی اور کئی علاقوںپر قبضہ کر لیا لیکن انہیں اتنی کامیابی حاصل نہ ہو سکی جس کے بارے مےں وہ پہلے ہی سے امید لگائے بیٹھے تھے۔ 
جب روس نے یہ دیکھا کہ وہ اس ہتھکنڈے مےں فیل ہوگیا اور یہاں اس طرح دال گلتی نظر نہیں آتی تو اس نے 11دسمبر 1994ءکو چیچن پر عام حملہ کر دیا جس کی توجیہ بیان کرتے ہوئے صدر یلسن نے اعلان کیا کہ چیچن رشین فیڈریشن کی حد ہے اور رہے گا، اس کے لئے ہمیں کیسا ہی قدم کیوں نہ اٹھانا پڑے۔ روس اور چیچن کے سازشی ٹولے کی امیدوں اور توقعات کے علی الرغم چیچن عوام روس کے لئے لوہے کا چنا ثابت ہوئے۔
ابتداءمےں روسی افواج کو چند کامیابیاں حاصل ہوئیں لیکن یہ سلسلہ زیادہ دیر جاری نہ رہ سکا۔ روسی افواج سے بہت سی تزویراتی غلطیاں ہوئیں جن سے چیچن جانبازوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ اسلان مسخادوف کی قیادت مےں انہوں نے روسی افواج کے خلاف گوریلاکارروائیاں شروع کر دیں۔ مارچ 1995ءتک مسخادوف کو چیچن مزاحمت کا لیڈر تسلیم کر لیا گیا۔
جون 1995ءمےں چیچن گوریلوں نے جنوبی روس کے شہر بدیونوفسک مےں ایک ہسپتال پر قبضہ کر کے ایک ہزار سے زائد افراد کو یرغمال بنا لیا۔ روسی افواج نے دو مرتبہ ہسپتال پر حملہ آور ہو کر گوریلوں پر قابو پانے کی کوشش کی مگر دونوں کوششیں ناکام ہوئیں۔ یرغمالیوں کی رہائی کے بعد گوریلوں کو وہاں سے نکل جانے کی اجازت دے دی گئی۔ یہ واقعہ روسی وفاق کے لئے نہایت حوصلہ شکن ثابت ہوا۔ اس کے علاوہ ان کے جنگی جرائم اور پھیلائی ہوئی تباہیوں کے مناظر پوری دنیا کے ٹیلی ویژنوں سے نشر کئے جا رہے تھے۔ ان سب عوام نے مل کر روسی حکومت کو مجبور کرد یا کہ وہ چیچنیا سے اپنی افواج نکال لیں۔ 21 مارچ 1996ءکے روز دونوں اطراف مےں مذاکرات کا عمل شروع ہوگیا۔
صدر دادیوف کو 21اپریل 1996ءکے روز ایک فضائی حملے مےں شہید کر دیا گیا اور ان کی جگہ نائب صدر زلیم خان یاندربائیوف نے صدارت کا عہدہ سنبھال لیا۔ اگست 1996ءمےں مذاکرات ختم ہوئے۔ جنگ ختم کر دی گئی اور روسی افواج علاقے سے نکل گئیں۔
اسلان مسخادوف کو 1997ءمےں صدر منتخب کیا گیا مگر وہ جنگی تباہیوں کے شکار اس علاقے پر اپنا کنٹرول مستحکم نہ کرسکے۔ مقامی قائدین اور علاقے کے طاقتور جرائم پیشہ دھڑوں نے استحکام کی راہ مےں ایسے روڑے اٹکائے کو چیچنیا بتدریج لاقانونیت کی دلدل مےں غرق ہونا شروع ہوگیا۔ چیچنیا کے عدم استحکام کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اگست 1999ءمےں روس نے اپنے علاقے مےں مداخلت کاری کا الزام لگا کر چیچنیا پر پھر حملہ کر دیا۔ شامل بسائیوف اور عامر خطاب کی قیادت مےں چیچن جانبازان کے خلاف صف آراءہوئے مگر اندرونی انتشار آڑے آیا اور انہیں شکست کھا کر پیچھے ہٹنا پڑا۔ ستمبر 1999ءمےںروس کی طرف سے الزام لگایا گیا کہ چیچن شورش پسندوں نے ماسکو اور دیگر کئی مقامات پر بم دھماکے کئے ہےں۔ روس کے نئے وزیراعظم ولادیمپرپوٹن کے حکم پر یکم ستمبر 1999ءکے روز روسی افواج چیچنیا مےں داخل ہوگئیں۔
اندرونی انتشار اور شورشوں کا شکار چیچنیا اس مرتبہ پہلے جیسے انداز مےں مزاحمت نہ کر سکا اور فروری 2000ءتک پورا چیچنیا ایک بار پھر روس کے قبضے مےں آگیا۔ مزاحمتی کارروائیاں جاری رہیں لیکن شامل بسائیوف اور اسلان مسخادوف جیسے قائدین کی شہادت کے بعد اب اس مےں پہلے جیسا دم خم باقی نہیں رہا۔ جمہوری عمل کو جاری کرنے کا جھانسہ دے کر روس ابھی تک اس علاقے پر قابض ہے اور عالمی برادری نے بھی چپ سادھ رکھی ہے۔

ترک جمہوریہ شمالی قبرص
ترک جمہوریہ شمالی قبرص قبرص کے شمالی علاقوں مےں واقع ایک ریاست ہے جسے صرف ترکی تسلیم کرتا ہے۔ اقوام متحدہ پورے جزیرہ قبرص پر جمہوریہ قبرص کا اختیار تسلیم کرتا ہے۔ ترک جمہوریہ شمالی قبرص یونانی قبرصی قبضے کے نو سال بعد 1983ءمےں قائم ہوئی۔ تھوڑے عرصے تک رہنے والا یہ قبضہ یونانی فوجی دستوں کی حمایت سے ای او کے اے بی کے حامیوں نے کیا تھا جو 1967ءسے 1974ءتک قائم رہا۔ بعدازاں قبرص مےں ترکی کی فوجی مداخلت کے باعث یہ ریاست تشکیل پائی۔ اس وقت سے آج تک علاقے مےں ترکی کی افواج کثیر تعداد مےں موجود ہےں۔ ترک جمہوریہ شمالی قبرص کے قیام سے قبل یہ علاقہ ”ترک وفاقی ریاست شمالی قبرص“ کہلاتی تھی۔
ریاست کی آبادی 265000 ہے اور یہ 3355مربع کلومیٹر کے علاقے پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس کی تقریباً تمام آبادی ترکی زبان بولنے والے نسلاً ترک باشندوں پر مشتمل ہے۔ علاقے کی آبادی تین برادریوں مےں منقسم ہے، ایک اصلی ترک قبرصی، دوسرے وہ ترک باشندے جن کے شادیوں کے ذریعے یہاں کے قبرصیوں سے تعلقات بنے اور تیسرے اناطولیہ سے ہجرت کر کے آنے والے ترک باشندے، علاوہ ازیں کچھ کرد آبادی بھی یہاں موجود ہے۔ 33ہزار ماہر فوجیوں کی صورت مےں یہاں ترکوں کی بڑی آبادی ہے۔
ترک جمہوریہ شمالی قبرص مےں نکوسیا شہر کا شمالی حصہ بھی شامل ہے جو دارالحکومت ہے۔ 1963ءکے بعد یہاں کی کثیر آبادی ہجرت کر گئی۔ اکثریت نے برطانیہ کا رُخ کیا جبکہ بڑی تعداد نے ترکی مےں بھی رہائش اختیار کی۔ اس ہجرت کی وجہ عالمی سطح پر تسلیم نہ کی جانے کے باعث ترک جمہوریہ شمالی قبرص کی خراب اقتصادی صورتحال تھی۔ ریاست کو دیگر ممالک کے ساتھ تجارت مےں شدید مشکلات کا سامناکرنا پڑتا ہے۔ ترک جمہوریہ شمالی قبرص اور جمہوریہ قبرص کے درمیان کا علاقہ اقوام متحدہ کے زیر انتظام ہے۔
جمہوریہ قبرص کا قیام اس وقت عمل مےں آیا جب یہاں کی آبادی کے اصرار کے باوجود برطانیہ نے قبرص کے یونان کے ساتھ الحاق کو منظور نہ کیا اور اس کے بجائے مکمل خودمختاری دینے کی پیشکش کی اور اس طرح یہ جزیرہ برطانیہ سے آزاد ہوگیا۔ جزیرے پر رہنے والی قبرصی اور ترک دونوں برادریوں کو نئی جمہوریہ کو چلانے کے لئے بلایا گیا کیونکہ جمہوریہ قبرص کے آئین کے مطابق کوئی ترک قبرصی صدر اور کوئی یونانی قبرصی نائب صدر نہیں بن سکتا اس لئے سیاسی تجزیہ نگاروں نے ابتدا ہی مےں ان خدشات کا اظہار کیا کہ جمہوریہ قبرص مےں کوئی مسئلہ پیدا ہونے والا ہے۔ دونوں اقوام کو حکومتی ایوانوں اور سرکاری ملازمتوں مےں مخصوص تعداد مےں نمائندگی دی گئی۔ آئین کے مطابق ایوان نمائندگان مےں 70فیصد یونانی قبرصی اور 30فیصد ترک قبرصی ہوں گے۔ دیگر معاملات مےں بھی اسی طرح تناسب مقرر کیا گیا جیسے افواج اور سرکاری ملازمتوں مےں یہ تناسب بالترتیب 60اور 40تھا۔ 1960ءکے معاہدہ ضمانت کے تحت یونان، ترکی اور برطانیہ جمہوریہ کی ضامن قوتیں تھیں۔
دسمبر 1963ءمےں قبرص کی حکومت کا اس وقت خاتمہ ہوگیا جب ترک قبرصیوں نے اس مےں شرکت سے دستبرداری اختیار کر لی۔ کسی بھی متفقہ فیصلے تک پہنچنے کے لئے دونوں برادریوں مےں اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث تین سال کے لئے قانونی معاملات رُکے رہے۔ اس تنازع کو مزید ہوا اس وقت ملی جب جمہوریہ قبرص کے آئین مےں ترمیم کی 13تجاویز دی گئی۔ ترک قبرصیوں نے ان کی شدید مخالفت کی اور انہوں نے ریاست کے شریک بانی کے بجائے خود کو اقلیت قرار دیا۔ انہوں نے ترامیم کو یونان کے ساتھ الحاق کی جانب اہم قدم قرار دیا۔ 21دسمبر 1963ءکو ترک قبرصیوں اور وزارت داخلہ کے سادہ اہلکاروںمےں ملبوس اہلکاروں کے درمیان ہونے والی جھڑپ مےں دو ترک قبرصی اور ایک یونانی قبرصی پولیس اہلکار ہلاک ہوگیا۔ اس کے ساتھ ہی دونوں اقوام کے درمیان جنگی صورت پیدا ہوگئی اور یونانی قبرصیوں نے یونان کی شہ پر ترک قبرصیوں کے خلاف ”جدوجہد“ کا آغاز کر دیا۔
ان فسادات مےں 191ترک اور 133یونانی قبرصی مارے گئے جبکہ 209ترک اور 41یونانی لاپتہ ہوئے۔ ترک قبرصیوں کے علاقوں کو مکمل طور پر لوٹ لیا گیا اور وہ اپنی ہی سرزمین پر مہاجرین کی صورت مےں خیموں مےں رہنے پر مجبور ہوگئے۔ اگلے 11سال تک ان کی زندگی کا انحصار اس غذا اور دواﺅں پر ہوتا تھا جو ترکی کی جانب سے آتی تھیں۔
1972ءسے 1974ءتک قبرص مےں اقوام متحدہ کی افواج کے چیف آف سٹاف بریگیڈیئر فرانسس ہین کے مطابق: ”ترک قبرصیوں کو مکمل طور پر محصور کر دیا گیا اور یونانی قبرصیوں پر مشتمل انتظامیہ نے ان کی برادری کے 56ہزار اراکین کا بھرپور استحصال کیا اور انہیں بنیادی ضروریات زندگی سے بھی محروم کر دیا“۔
15جولائی 1974ءکو یونان کے فوجی دستوں کی شہ پر قبرص مےں ای او کے اے نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ صدر میکاریوس کو عہدے سے معزول قرار دے کر ان کی جگہ ای او کے اے کے جنگجو اور رکن پارلیمان نکولس سمپسن کو نیا صدر بنا دیا گیا۔ ترکی نے اسے 1960ءکے معاہدہ ضمانت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف بھرپور فوجی کارروائی کو جائز قرار دیا اور یوں 20جولائی 1974ءکو قبرص پر حملہ کر دیا۔ قبرص مےں ترک آبادی کو بچانے کے لئے ترکی کا یہ اقدام بہت ضروری تھا۔ ترک افواج نے جزیرے کے 37فیصد حصے پر قبضہ کر لیا اور یوں یونانی قبرصیوں کی بڑی آبادی کو بھی اپنے گھروں سے محروم ہونا پڑا۔ ایک لاکھ 95ہزار یونانی قبرصی جزیرے کے جنوبی جانب جبکہ 50ہزار ترک قبرصی جزیرے کی شمالی جانب ہجرت کر گئے۔ جنگی صورتحال کے خاتمے تک ہزاروں ترک اور یونانی قبرصی لاپتہ ہوگئے۔
1975ءمےں ترک وفاقی ریاست شمالی قبرص کا قیام جزیرہ قبرص پر ترک قبرصیوں کی ریاست کی حیثیت سے عالمی سطح پر شناخت حاصل کرنے کے لئے پہلا قدم تھا جسے جمہوریہ قبرص، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری نے تسلیم نہ کیا۔ یونانی قبرصی قیادت کے ساتھ ساٹھ سال کے ناکام مذاکرات کے بعد شمالی قبرص نے 15نومبر 1983ءکو اپنی آزادی کا اعلان کر دیا اور یوں ترک جمہوریہ شمالی قبرص معرض وجودمےں آیا۔ تاہم آج تک ترکی کے علاوہ دنیا کا کوئی ملک اسے تسلیم نہیں کرتا۔ اقوام متحدہ اپنی متعدد قراردادوں مےں ترک جمہوریہ شمالی قبرص کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔ اسلامی کانفرنس کی تنظیم نے ترک جمہوریہ شمالی قبرص کو رائے دہندہ ریاست کی حیثیت دی ہے اور وہ تنظیم مےں مبصر کی حیثیت سے شامل ہے۔ پاکستان، قطر اور گیمبیا سمیت دیگر کئی اقوام بھی ترک جمہوریہ شمالی قبرص کو تسلیم کرنے کے لئے مثبت خیالات کا اظہار کر چکی ہےں۔
اقوام متحدہ کے عنان منصوبہ پر اپریل 2004ءمےں ہونے والے ریفرنڈم کے بعد ترک جمہوریہ شمالی قبرص کے حوالے سے عالمی برادری کے رویے مےں کچھ بہتری آئی ہے۔

کوسوو
17فروری 2007ءکو سابق یوگوسلاویہ کی باقیات پر مشتمل ملک سربیا کے مسلم اکثریتی صوبہ کوسوو کی پارلیمان نے اعلان آزادی کی قرارداد منظور کر لی۔ پارلیمنٹ کے سپیکر یعقوب کراسی نے قرارداد منظور ہوتے ہی یہ تاریخی اعلان کیا کہ کوسوو اب ایک آزاد جمہوری اور خودمختار مملکت ہے۔ وزیراعظم ہاشم تھاچی نے کہا کہ آج ہمیں آزاد اور خودمختار ہونے پر فخر ہے۔
سوویت یونین کے خاتمے اور البانیہ و بوسنیا کے بعد کوسوو جزیرہ نما بلقان کا تیسرا ملک ہے جو یورپ کے وسط مےں اپنے مسلم تشخص کے ساتھ وجود مےں آیا ہے۔ اب اس خطہ مےں مسلم نشاة الثانیہ کی تحریک زور پکڑتی جارہی ہے، مساجد اور مدرسے آباد ہو رہے ہےں اور اکثریتی البانوی آبادی اپنی مسلم شناخت پر اصرار کرتی ہے۔
کوسوو کی آزادی ایک عشرہ کی مسلم نسل کشی کے بعد عمل مےں آئی۔ نسل کشی کا یہ سلسلہ سربیا کی عیسائی اکثریت اور ان کے نسل پرست رہنماﺅں کی طرف سے طویل عرصہ تک جاری رہا حتیٰ کہ یورپین یونین کی تحریک پر نیٹو افواج نے مداخلت کی۔ آخرکار اقوام متحدہ کو اس علاقہ مےں البانوی نژاد مسلمانوںکے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے یو این امن مشن کے زیر انتظام عبوری اقدامات کرنے پڑے۔
سابق یوگوسلاویہ کی تقسیم کے بعد ابتداءمےں کوسوو کو سربیا کا ایک خودمختار صوبہ قرار دیا گیا تھا۔ کوسوو کا رقبہ 10887 مربع کلومیٹر ہے جبکہ اس کی موجودہ آبادی بیس لاکھ ہے۔
کوسوو کی بانوے فیصد آبادی البانوی نژاد مسلمانوں پر مشتمل ہے جبکہ چھ فیصد آبادی کا تعلق سربوں، روما، گورنیز، بونکس اور ترکوں سے ہے۔ کوسوو کے نوے فیصد مسلمان سنی مسلک سے تعلق رکھتے ہےں۔
کوسوو کا صدر مقام پر سٹینا ہے۔ اس کے مغرب مےں مانٹی نگیرو، جنوب مغرب مےں البانیہ، جنوب مےں جمہوریہ مقدونیہ اور شمال مےں وسطی سربیا واقع ہےں۔ البانوی، انگریزی اور سربی قومی زبانیں ہےں۔ قدرتی وسائل مےں کوئلہ، سیسہ، جست، کرومیم اور چاندی شامل ہے۔
کوسوو تیسری اور چوتھی صدی قبل مسیح سے ہی جنگ وجدل کا شکار رہا ہے اور مختلف سلطنتوں خصوصاً بازنطینی اور رومن سلطنتوں کے درمیان مفتوحہ علاقہ بنتا رہا ہے۔ سن 1389ءمےں جنگ کوسوو مےں سلطنت عثمانیہ نے سلطنت سربیا کو شکست دے کر خلاف عثمانیہ کا ایک حصہ بنا لیا تھا اور سن 1402ءمےں یہاں معدنی ذخائر کی دریافت کے بعد کوسوو کو ولایت رومالیہ کا نام دے کر ایک خودمختار صوبے کی حیثیت دے دی گئی تھی۔ 1455ءکی سرب مزاحمتی جدوجہد کے خاتمہ کے بعد کوسوو مکمل طور پر سلطنت عثمانیہ کا حصہ بن گیا۔ عملاً 1455ءسے 1912ءتک کوسوو ترک خلافت کا باج گزار رہا۔ 1699ءسے 1683ءکے مختصر عرصے مےں کوسوو پر آسٹریا نے قبضہ جمائے رکھا جبکہ انیسویں صدی مےں البانیہ کے ساتھ کوسوو بھی قوم پرستی کی لہر کی زد مےں آگیا۔
1910ءمےں سلطنت عثمانیہ کے خلاف البانوی سورش پرسٹینا تک پھیل گئی جو جون 1911ءتک، عثمانی خلیفہ کے دورہ کوسوو تک جاری رہی۔ 1912ءمےںجنگ بلقان کے دوران کوسوو کا بیشتر حصہ سلطنت سربیا کے قبضہ مےں آگیا جس کے نتیجہ مےں یہاں سے بڑے پیمانہ پر البانوی مسلمانوں کا انخلا ہوا جس کی رپورٹ روسی اخبار پراودا کے رپورٹر لیون ٹراٹسکی نے تفصیل سے اپنے اخبار مےں شائع کی۔
1915-16ءمےں پہلی عالمی جنگ کے دوران سربیائی افواج کا بڑے پیمانہ پر کوسوو سے انخلا ہوا۔ اس وقت بلغاریہ، آسٹریا اور ہنگری کوسوو پر قابض تھے۔ 1918ءمےں وہ البانیہ کے ساتھ سینٹرل پاور نامی اتحاد مےں مجتمع ہوگئے۔ اسی سال مےں سربیائی فوج نے سینٹرل پاور اتحاد کو کوسوو سے دھکیل دیا اور یوں پہلی عالمی جنگ کے خاتمہ پر یکم دسمبر 1918ءکے روز سربیائی، کروشیائی اور سلوانین علاقوں پر مشتمل ایک نئی سلطنت یوگوسلاویہ وجود مےں آئی۔
1918ءتا 1929ءکے عرصے مےں جب دنیا دوسری عالمی جنگ کی لپیٹ مےں تھی، کوسوو کو چار حصوں مےں تقسیم کر دیا گیا۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران 1941ءمےں محوری افواج نے سلطنت یوگوسلاویہ پر چڑھائی کر دی اور کوسوو کا بہت بڑا حصہ اطالوی سرپرستی مےں قائم البانیہ کی فسطائی حکومت کے قبضہ مےں آگیا جبکہ کچھ چھوٹے حصے بلغاریہ اور نازی جرمنی نواز سربیائی حکومتوں کے تسلط مےں رہے۔
متعدد شورشوں کے بعد پرسٹینا کے ایک مہم جو فیدل ہوگزا نے البانوی نژاد باشندوں کے ساتھ مل کر 1944ءمےں کوسوو کو آزاد کرایا اور پھر سربیا کے ایک صوبہ کی حیثیت سے کوسوو وفاقی جمہوریہ یوگوسلاویہ مےں شامل ہوگیا۔
ایک خودمختار صوبے کی حیثیت کوسوو کا وجود سب سے پہلے 1945ءمےں وجود مےں آیا۔ مارشل جوزف بروز ٹیٹو کے آمرانہ دور مےں 1953ءکے دوران جمہوریہ یوگوسلاویہ کا نام بدل کر سوشلسٹ فیڈرل ری پبلک آف یوگوسلاویہ رکھ دیا گیا۔ تاہم 1960ءتک کوسوو کو اندرونی خودمختاری حاصل رہی اور اس کی قیادت کو صدر اور وزیراعظم کے عہدے دیئے گئے تھے تاہم 1980ءسے کوسوو مےں نسلی کشیدگی شدت پکڑ گئی۔
مارچ 1981ءمےں البانوی نژاد طلباءنے کوسوو کی آزادی کی مہم شروع کی۔ 1986ءمےں یوگوسلاویہ کے مختلف اداروں نے ملک مےں نسلی انتشار اور خانہ جنگی کے خدشات کے بارے مےں متنبہ کرنا شروع کر دیاتھا۔ 28جون 1989ءکو جنگ کوسوو کی چھ سوویں برسی کے موقع پر جویوگوسلاویہ کے صدر اور سربیا کے نسل پرست رہنما ملاسووچ نے جو تقریر کی تھی وہ بھس مےں چنگاری ثابت ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا یوگوسلاویہ شکست و ریخت انتشار اور خانہ جنگی کی لپیٹ مےں آگیا۔ 2جولائی 1990ءکو کوسوو کی ایک خودمختار پارلیمان نے کوسوو کو ایک خودمختار جمہوریہ قرار دیا لیکن یورپی اقوام نے اس پارلیمان اور اس کے اعلان آزادی کو غیر قانونی گردانا۔ عملاً جمہوریہ کوسوو کا وجود 2000ءمےں کالعدم قرار دیا جبکہ کوسوو کے تمام انتظامی ادارے اقوام متحدہ کے امن مشن کے زیر انتظام کام کرتے رہے۔ جمہوریہ کوسوو کے مختصر دور آزادی کو صرف البانیہ نے تسلیم کیا تھا۔
1998ءسے جس خونریز جنگ کوسوو کا آغاز ہوا وہ دراصل کوسوو کے نہتے عوام کے قاتل ملاسووچ اور بچے کھچے یوگوسلاویہ پر قابض نسل پرست سربیائی افواج کی جانب سے البانوی نژاد مسلمانوں کے نسلی پیمانہ پر قتل عام کا ایک سوچا سمجھا مذموم منصوبہ تھا۔ اس دوران 11ہزار کوسوو مسلم ہلاک اور تین ہزار لاپتہ ہوگئے جبکہ بیس ہزار البانوی نژاد مسلم خواتین کو بے آبرو کیا گیا۔ یہ قتل عام مہذب یورپ اور عالمی ضمیر کے منہ پر ایک طمانچہ ثابت ہوا اور بالآخر اقوام متحدہ یورپی یونین اور نیٹو کو اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے موثر مداخلت کرنی پڑی۔ کوسوو کے اعلان آزادی کو اب تک اقوام متحدہ کے 62سے زائد رکن ممالک تسلیم کر چکے ہےں تاہم سربیا کی حکومت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ابھی تک یہ مرحلہ پوری طرح طے نہیں ہو سکا۔ 

نگورنو کاراباخ
آرمینیا کوہ قاف کے خطے کی ایک چھوٹی سی ریاست ہے جس کے مادی وسائل قابل ذکر نہیں ہےں۔ ترکی، ایران اور جمہوریہ آذربائیجان کے درمیان واقع یہ ملک چاروں طرف سے خشکی مےں گھرا ہوا ہے۔ وسائل کی کمی، کم آبادی اور جغرافیائی حالات کی نزاکت کے باوجود یہ ریاست توسیع پسندانہ عزائم رکھتی ہے۔ اس نے آذربائیجان کی بیس فیصد سرزمین پر قبضہ کر رکھا ہے، ترکی کے خلاف بھی جارحانہ رویہ رکھتا ہے اور ترکوں کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں مےں ہمیشہ سرگرم رہا ہے۔ 
15جنوری 2009ءکو آذربائیجان کے محکمہ خارجہ نے ایک بیان جاری کیا جس مےں بتایا گیا کہ روس نے آرمینیا کو قریباً 80کروڑ ڈالر کا اسلحہ بطور تحفہ دیا ہے۔ اس سے پہلے بھی روس آرمینیا کو ایک ارب ڈالر کا اسلحہ بطور گرانٹ دے چکا ہے۔ روس کی پشت پناہی نے آرمینیا کو درندہ صفت بنا دیا ہے۔ روس نے آرمینیا کی سلامتی اور تحفظ کی ضمانت دے رکھی ہے۔ روس کوہ قاف اور مشرق وسطیٰ کے قریب ایک قابل اعتماد اور مضبوط ”بیس“ کا خواہاں ہے۔ روس آرمینیا کے ذریعے اس علاقے پر اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ روس اگر خود کسی پڑوسی ملک کے خلاف جارحانہ کارروائی کرے تو اس صورت مےں مغرب کی طرف سے اس پر زبردست تنقید ہو سکتی ہے۔ اس لئے روس آرمینیا کی بھرپور فوجی مدد کر رہا ہے تاکہ علاقے کے تمام ممالک روسی اثرورسوخ کو مدنظر رکھیں۔ دوسرا مقصد خطے مےں بڑھتے ہوئے امریکی اثرورسوخ کو کم کرنا ہے۔
روس نے جدید اسلحہ کی جو موجودہ کھیپ آرمینیا کی مسلح افواج کے حوالے کی ہے۔ یہ اس کے دوغلے پن کی بدترین مثال ہے کیونکہ روس ایک طرف تو بظاہر دونوں سابقہ روسی ریاستوںکے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے تو دوسری طرف جارح کی مکمل پشت پناہی کررہا ہے۔ روس ہی دراصل وہ فیکٹر ہے جس نے آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جھگڑا پیدا کیا۔ آذربائیجان علاقے کے تمام ممالک سے زیادہ وسائل اور صلاحیت کا حامل ملک ہے۔ روسی حمایت کے بغیر آرمینیا آذربائیجان کےخلاف جنگ تو دور کی بات ہے جنگ کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔
نگورنو کاراباخ تاریخی لحاظ سے جمہوریہ آذربائیجان کا حصہ ہے۔ ملک کے اس حصے کا نام دو آذری زبان کے لفظوں کا مجموعہ ہے۔ قرہ یعنی ”سیاہ“ اور باخ یعنی ”باغ“ یوں کاراباخ کا مطلب سیاہ باغ بنتا ہے۔ اس کے جنوب مےں دریائے اراض، شمال مےں دریائے قور جبکہ مشرق مےں ان دونوں دریاﺅں کا سنگم واقع ہے۔ تاریخی اور جغرافیائی ہر دو لحاظ سے کاراباخ کا علاقہ آذربائیجان کا فطری حصہ ہے۔ نگورنو کاراباخ کا علاقہ پہلے 1980ءکی دہائی کے آخری سالوں مےں اور پھر 1990ءکی دہائی کے شروع مےں آرمینیائی جارحیت کا نشانہ بنا۔ یہ اس دور کی بات ہے جب سوویت یونین ابھی قائم و دائم تھا۔ اس وقت آرمینیا نے روسی افواج کی مدد سے اور سوشلسٹ قیادت کی منافقانہ پالیسیوں کے طفیل نہ صرف نگورنو کاراباخ پر قبضہ کر لیا بلکہ اس سے ملحقہ سات دیگر قریبی انتظامی علاقوں پر بھی قبضہ جما لیا۔ کمیونسٹ روس کے دور مےں آہنی پردے کی وجہ سے اندرون روس کی خبریں آزاد دنیا تک نہیں پہنچتی تھیں۔ آرمینین ہمیشہ سے آذری سرزمین کو زیر قبضہ لانے کے لئے غیر مسلح اور پرامن آذری لوگوں کے خلاف خونی مہمیں چلاتے رہے ہےں۔
تازہ ترین ظالمانہ کارروائیوں مےں جن کا آغاز سوویت دور کے آخری دنوں مےں ہوا۔ ان دہشت انگیز کارروائیوں مےں روسی افواج نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ روسی افواج کی مدد سے آرمینیا کے دہشت گردوں نے پورے نگورنو کاراباخ اور دیگر ملحقہ سات علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ سینکڑوں بستیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا اور ہزاروں بے گناہوں کو پرتشدد طریقے سے قتل کیا۔ اسلامی دور اور ثقافت کی سینکڑوں انمول نشانیوں کو بھی تباہ کر دیا گیا اور جمہوریہ آذربائیجان کے تقریباً 20فیصد علاقے پر قبضہ کر لیا۔ ان تمام کارروائیوں مےں آذربائیجان کے دس لاکھ سے زائد افراد بے گھر کر دیئے گئے جو پورے آذربائیجان مےں بکھرے ہوئے کیمپوں مےں پڑے ہےں۔ آرمینیا اور روسی افواج کی کارروائیوں مےں آذربائیجان کو ساٹھ ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہو چکا ہے جس مےں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ 20جنوری 1990ءکو باکو کے گلی کوچوں مےں ہونے والا قتل عام ان سوویت فوجی دستوں نے کیا تھا جو روسی اور آرمینیائی فوجیوں پر مشتمل تھے۔ آذربائیجان کی قوم اس سانحے کو ابھی تک نہیں بھولی اور ہر سال 20جنوری کو ان شہداءکی یاد سرکاری سطح پر منائی جاتی ہے۔
1992ءمےں یورپ کی تنظیم برائے تعاون و سلامتی کا منسک گروپ تشکیل دیا گیا جس کی کوششوں سے 1994ءمےں آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جنگ بندی ہوگئی۔ اسی سال 6دسمبر کو بوڈا پیسٹ اجلاس مےں امریکہ، فرانس اور روس پر مشتمل شریک چیئرمینوں کا انتخاب ہوا تاکہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان مسلح جھگڑے کا پرامن حل تلاش کیا جاسکے۔ اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں مےں بھی آرمینیا کو آذربائیجان کے علاقے خالی کرنے کےلئے کہا گیا ہے اور دنیا پر زور دیا گیا ہے کہ کوئی بھی ملک ایسی کارروائی نہ کرے جس سے جارح (آرمینیا) کو قبضہ جاری رکھنے کی شہ ملتی ہو یا قبضہ جاری رکھنے مےں مدد ملے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ پوری دنیا نے اس جھگڑے مےں آذربائیجان کے موقف کو درست قرار دیا ہے۔ حقیقتاً آذربائیجان کی جاندار سفارت کاری نے آرمینیا کو نہ صرف دنیا مےں الگ تھلگ کر دیا ہے بلکہ اب آرمینیا پر مقبوضہ علاقے خالی کرنے کے لئے دباﺅ بڑھتا جا رہا ہے۔ آذربائیجان نگورنو کاراباخ کو انتہائی درجے کی خودمختاری دینے کو بھی تیار ہے۔
2نومبر 2008ءکو روس، آرمینیا اور آذربائیجان کے صدور نے ماسکو مےں ملاقات کے بعد ایک اعلامیے پر دستخط بھی کئے جس مےں جھگڑے کے پرامن حل پر زور دیا گیا ہے۔ ان حالات مےں روس کی آرمینیا کو اس قدر بڑی مقدار مےں جدید اسلحے کی فراہمی، اس کے دوہرے کردار کی غمازی کرتی ہے۔ یہ ایک بڑی طاقت کے شایان شان نہیں کہ وہ چھوٹے ممالک کے مابین کشیدگی کو ہوا دے۔ روس کے اس منافقانہ کردار سے امن مذاکرات کو نقصان ہوگا اور اس سے آرمینیا کی جنگی صلاحیت مےں بہت زیادہ اضافہ ہو جائے گا۔ آذربائیجان چاہتا ہے کہ اس کے علاقے واگزار کئے جائیں۔ جبری بے دخل کئے گئے لوگوں کو اپنے گھروں کو جانے اور دوبارہ آباد ہونے دیا جائے اور اس کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔ یورپی سلامتی و تعاون کی کونسل اور دیگر مصالحت کار آذربائیجان کے دعوے کو درست مانتے ہےں اور جھگڑے کے پرامن حل کےلئے اس کی کوششوں کو تحسین کی نظر سے دیکھتے ہےں۔ ان حالات مےں آرمینیا کو روسی اسلحے کی فراہمی بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے جس کا عالمی برادری کو سختی سے نوٹس لینا چاہئے۔
٭٭٭٭

Sunday, 9 September 2012

یمن Yemen History


یمن
Yemen
آزادی، شمالی یمن یکم نومبر 1918ئ، جنوبی یمن 30نومبر 1957ئ، اتحاد 22مئی 1990ئ۔ سرکاری نام، جمہوریہ یمن۔ سرکاری زبان، عربی۔ طرزحکومت جمہوریہ۔ کرنسی، یمنی ریال۔ فی کس آمدن، 2412 ڈالر۔ کل رقبہ، 527968مربع کلومیٹر۔ دارالحکومت، صنعا۔ اہم شہر، عدن، تائز، المکلا، حدیدہ۔ آبادی، 23,580,000 (تخمینہ 2009ئ)
محل وقوع
یہ براعظم شمالی افریقہ مےں واقع ہے۔ اس کے شمال مشرق مےں سعودی عرب اور مشرق مےں عمان واقع ہے۔ ایک ساحلی ریتلی پٹی اندرون ملک زرخیز علاقوں مےں چلی گئی ہے۔ جنوب مےں بحیرہ عرب اور مغرب مےں بحیرہ احمر واقع ہےں۔ گرمیوں مےں شدید گرمی ہوتی ہے۔ ساحلی علاقوں مےں موسم معتدل رہتا ہے۔ سردیاں خشک اور معتدل ہوتی ہےں۔ کہر بھی پڑتی ہے۔
لوگ
99فی صد لوگ مسلمان ہےں۔ 53فی صد سنی اور 46فی صد شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہےں۔ یہاں ایک فیصد عیسائی بستے ہےں۔ مقامی لوگوں کے علاوہ ہندوستانی اور حبشی باشندے بھی بستے ہےں۔
38فی صد شرح خواندگی ہے۔ 59فی صد بچے سکول جاتے ہےں۔ مردوں کی اوسط عمر 49سال اور عورتوں کی 51سال ہے۔ شرح اضافہ آبادی 3.0فی صد ہے۔ اطفال مےں اموات کا تناسب 1000 مےں 121ہے۔
وسائل
گندم، جو، کپاس، مکئی، آلو، کھجور اور سورغم اہم زرعی اجناس ہےں جو یہاں پیدا ہوتی ہےں۔ سب سے بڑی فصل کپاس ہے۔ یہ ایک زرخیز زرعی ملک ہے۔ 64فی صد لوگ اسے پیسے سے وابستہ ہےں۔ ملک کا 14فی صد حصہ زیر کاشت ہے۔
کوئلہ، لوہا، نمک، تانبا، سیسہ، چاندی، گندھک، یورینیم، سونا، ٹیٹانیم اور زرکون اہم معدنیات ہےں۔ 22فی صد لوگ صنعتوں سے منسلک ہےں۔ ملکی پیداوار کی صنعت 18فی صد ہے۔ اہم صنعتوں مےں پٹرولیم، ریفائنری، رنگ سازی، ماچس سازی، پارچہ بافی، دوا سازی اور المونیم کی صنعتیں شامل ہےں۔ 1987ءمےں یہاں سے تیل بھی دریافت ہوا۔ یہاں ریلوے کا نظام موجود نہیں۔ سڑکوں کی کل لمبائی سات ہزار میل ہے۔ 13ہوائی اڈے ملک مےںموجود ہےں۔ صنعا اور عدن بین الاقوامی ہوائی اڈے ہےں۔ الحدیدہ، المنمی اور عدن اہم بندرگاہیں ہےں جہاں دنیا بھر کے جہاز لنگر انداز ہوتے ہےں۔
اہم درآمدات مےں کیمیکلز، سیمنٹ، اشیائے صرف، ٹیکسٹائلز، چینی، غلہ، اشیائے خوردنی، پٹرولیم پروڈکٹس، مشینری و آلات اور ٹرانسپورٹ شامل ہےں جبکہ برآمدات مےں مویشیوں کی کھالیں، خشک اور نمکین مچھلی، کپاس، کافی، سبزیوں اور کپاس کو شمار کیا جا سکتا ہے۔ 
تاریخ
ملکہ سبا ہزاروں سال پہلے یہاں کی حکمران تھی جس کا ذکر قرآن پاک مےں بھی آیا ہے۔ عدن کا نام بھی قرآن مےں آیا ہے جو اس ملک کا اہم شہر ہے۔ عثمانی ترکوں نے یہاں کئی سو سال حکومت کی۔ جنگ عظیم اول مےں ترکی کی شکست کے بعد یہ سلطنت ختم ہوگئی۔ یوں 1918ءمےں یمن آزاد ہوا۔ 1948ءسے 1962ءتک امام احمد نے یہاں حکومت کی۔ بعد مےں جنرل عبدالسلال فوجی صدر بنے۔
1959ءمےں جنوبی یمن کی چھ ریاستوں نے مل کر ”جنوبی وفاقی عرب امارات“ کے نام سے ایک فیڈریشن بناتی ہےں، جس کا نام بعد مےں تبدیل ہو کر ”وفاق جنوبی عرب“ رکھ دیا گیا۔ 1967ءمےں تحریک آزادی کے نتیجے مےں برطانیہ نے جنوبی یمن کو آزادی دے کر اپنی فوجیں واپس بلالیں۔ 1972ءمےں شمالی یمن سے سرحدی جھڑپوں کے بعد ایک معاہدہ امن ہوا جس مےں دونوں ممالک کے ادغام کا بھی اقرار کیا گیا۔
1974ءمےں امریکہ نے الزام لگایا کہ روس جنوبی یمن مےں اپنے فوجی اڈے قائم کر رہا ہے اور بحیرہ ¿ قلزم اور بحر ہند مےں اپنی آبدوزوں کے لئے اڈے بنا رہا ہے۔ 1975ءمےں جزیرہ پیرم جسے بحیرہ ¿ قلزم کی طرف کھلنے والا جنوبی دروازہ کہا جاتا ہے، عرب لیگ کی فرمائش پر مصر کو ٹھیکے پر دیا جاتا ہے، جس کے صلے مےں عرب لیگ کی جانب سے جنوبی یمن کو اقتصادی امداد فراہم کی گئی۔
1976ءمےں شمالی یمن مےں سوویت یونین کی حمایت سے بائیں بازو کا فوجی انقلاب آیا تو جنوبی یمن کی حکومت نے انقلابیوں کی حمایت کی لیکن انقلاب ناکام رہا اور جنوبی یمن کی حکومت کو شمالی یمن سے صلح کرنا پڑی۔ 
1979ءمےں دس سالہ کشمکش، فوجی انقلابات اور تبدیلیوں کے بعد جنوبی یمن نے شمالی یمن پر حملہ کیا۔ شمالی یمن نے امریکہ اور سعودی عرب کی فوجی امداد کے بل پر یہ حملہ پسپا کر دیا۔ آخرکار صلح ہوئی۔ سرحدوں پر عرب لیگ کے گشتی دستے مامور ہوئے۔ شمالی یمن کے صدر صالح اور جنوبی یمن کے صدر اسماعیل کے مابین دونوں ممالک کے ادغام کے بارے مےں بات چیت ہوئی اور ایک منصوبہ تشکیل دیا گیا۔
1982ءمےں جنوبی یمن اور شمالی یمن کی متحدہ مملکت کے لئے ایک متفقہ آئین کا مسودہ تیار کیا گیا۔ 22مئی 1990ءکو سوویت یونین کی تحلیل کے بعد جنوبی اور شمالی یمن کا اتحاد ہوا اور نئے ملک کا نام جمہوریہ یمن رکھا گیا۔ دونوں ملکوں کی اسمبلیوں نے نئے ملک کی صدارت کے لئے شمالی یمن کے صدر علی عبداللہ صالح کا انتخاب کیا۔
1994ءمےں جنوبی یمن مےں علیحدگی کی تحریک چلی۔ دوبارہ خانہ جنگی شروع ہوئی لیکن شمالی یمن کی فوج نے فوری کارروائی کر کے تحریک کو کچل دیا۔ اپریل 1997ءکے پارلیمانی انتخابات مےں صدر صالح کی سیاسی جماعت ”پیپلز کانگریس“ کو کامیابی حاصل ہوئی۔
نائن الیون کے واقعہ کے بعد یمن سے القاعدہ کے کئی کارکن گرفتار ہوئے۔ یمن کی حکومت دہشت گردی کے خلاف اور بین الاقوامی طور پر اس کے خلاف سرگرم عمل ہے۔
2000ءکے موسم گرما مےں آئین مےں چند تبدیلیاں کی گئیں اور صدارت کی مدت مےں دو سال کا اضافہ کر دیا گیا۔ اس طرح اگلے صدارتی انتخابات کا 2006ءمےں ہونا طے پایا۔ اس ترمیم سے پارلیمنٹ کی مدت مےں بھی دو سال کا اضافہ ہوگیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

یوگنڈا Uganda History


یوگنڈا
Uganda
آزادی، 9اکتوبر 1962ئ۔ سرکاری نام، جمہوریہ یوگنڈا۔ سرکاری زبان، انگریزی، سواحلی۔ طرز حکومت، جمہوریہ۔ کرنسی، یوگنڈی شلنگ۔ فی کس آمدن، 453ڈالر۔ کل رقبہ، 236040 مربع کلومیٹر۔ دارالحکومت، کمپالا۔ اہم شہر، جنجا، انٹی بے، امبیل۔ آبادی، 30,900,000 (تخمینہ 2007ئ)
محل وقوع
براعظم شمالی افریقہ مےں واقع ہے۔ اس کے شمال مےں سوڈان، مشرق مےں کینیا، جنوب مےں تنزانیہ، جھیل وکٹوریہ اور وانڈا اور مغرب مےں ڈیموکریٹک ری پبلک آف کانگو واقع ہےں۔ جنوب مےں آتش فشاں پہاڑ ہےں۔ شمال مشرق علاقہ بنجر ہے۔ مغرب اور جنوب مغرب مےں بارشیں بکثرت ہوتی ہےں۔ اس کی آب و ہوا نشیبی علاقوں کی آب و ہوا سے ملتی جلتی ہے۔ اس کا درجہ حرارت 71فارن ہائیٹ سے بڑھنے نہیں پاتا۔
لوگ
یہاں اگرچہ اکثریت (66فیصد) عیسائیوں کی ہے مگر مختلف گروہوں مےں بٹے ہونے کے باعث انہیں وہ اثر حاصل نہیں ہو سکا جس کی توقع کی جا سکتی تھی۔ مسلمان تعداد مےں کم (16فیصد) ہونے کے باوجود سیاسی طور پر تقدیم رکھتے ہےں۔
یہاں ایک مربع میل مےں 200افراد بستے ہےں۔ 90فی صد لوگ زراعت سے وابستہ ہےں۔ لوگ بنتو، نیلونگ، نیلو اور سوڈانی نسل سے تعلق رکھتے ہےں۔ یہاں کے 52فیصد افراد پڑھے لکھے ہےں۔ مردوں کی اوسط عمر 50سال اور عورتوں کی 52سال ہے۔ آبادی مےں اضافے کی شرح 3.52 فی صد سالانہ ہے۔ ہسپتال مےں 817افراد کے حصے مےں بستر اور بیس ہزار افراد کے لئے ایک ڈاکٹر میسر ہے۔ اطفال مےں شرح اموات 94فی ہزار ہے۔
وسائل
تمباکو، گنا، آلو، چنے، مونگ پھلی، چائے، کافی اور کیلا اہم زرعی پیداواریں ہےں۔ ملک کے 23فی صد حصے پر کاشت ہوتی ہے۔ 90فی صد لوگ کاشت کاری کرتے ہےں۔ زراعت سے ہونے والی آمدنملک کی مجموعی پیداوار کا 65فی صد ہے۔ 
یہاں کی دس فی صد آبادی صنعتوں اور تجارت سے وابستہ ہے۔ 54فی صد صنعتی خام مال زرعی پیداوار سے حاصل کیا جاتا ہے۔ عیدی امین نے 1973ءمےں تمام کمپنیوں کو قومی تحویل مےں لے لیا تھا۔ پارچہ بافی، لوہے اور فولاد سے سامان سازی، ادویات سازی، سیمنٹ، جوتے اور کھاد کی صنعتیں ترقی کر رہی ہےں۔
یہاں 775میل لمبی ریلوے لائن موجود ہے۔ سڑکیں 4500میل لمبی ہےں۔ جھیل وکٹوریہ جہاز رانی کا اہم ذریعہ ہے۔ کمپالا کے قریب ایسٹب مےں بین الاقوامی ہوائی اڈہ موجود ہے۔ آرودا کے مقام پر ہوائی اڈہ بھی تعمیر کیا گیا ہے۔
اہم درآمدات مےں زرعی مشینری، پٹرولیم پروڈکٹس، دھات کا سامان، ٹرانسپورٹ کا سامان، کاغذ اور خوراک شامل ہےں جبکہ اہم برآمدات مےں تانبا، چائے، کپاس، کافی اور مویشیوں کی کھالوں کو شمار کیا جاسکتا ہے۔
تاریخ 
1800ءتک مختلف قبائل یہاں کے حکمران رہے۔ 1862ءمےںبرطانیہ کے سیاح یہاں آئے۔ آہستہ آہستہ برطانیہ نے یہاں اپنا اثرورسوخ بڑھانا شروع کر دیا۔ 1893ءمےں یہ علاقہ برطانیہ کے زیر سایہ چلا گیا۔ عوامی دباﺅ پر 19اکتوبر 1962ءکو غیر ملکی تسلط ختم ہوا۔ 1963ءمےں شاہ موتسیہ صدر اور ملٹن اوبوٹے وزیراعظم بنے۔ فروری 1966ءمےں شاہ موتیہ کی حکومت ختم کر کے ملٹن اوبوٹے نے اقتدارپر مکمل قبضہ کر لیا اور آئین معطل کر دیا۔ شاہ موتیہ برطانیہ بھاگ گئے۔
25جنوری 1971ءکو جنرل عیدی امین نے ملٹن اوبوٹے کے غیر ملکی دورے کے دوران ان کا تختہ الٹ دیا۔ انہوں نے 1992ءمےں غیر ملکی باشندوں کو ملک سے نکال دیا جس پر برطانیہ، امریکہ، کینڈا نے یوگنڈا سے اپنے تعلقات ختم کر دیئے۔ عیدی امین نے اپنے تعلقات عربوں سے مستحکم کرنے شروع کر دیئے۔ 28جولائی 1976ءکو عیدی امین نے تنزانیہ سے جنگ شروع کی اور اس کے 710میل کے رقبہ پر قبضہ کر لیا۔ جوابی حملے پر 11اپریل 1979ءکو یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا پر تنزانیہ نے قبضہ کر لیا۔ یہ جنگ 1979ءجولائی تک رہی۔ بالآخر عیدی امین بھاگ گئے اور 13اپریل 1979ءکو یوسفو کرونڈے لولے صدر بن گئے۔
20جون کو ان کو صدارت سے الگ کر کے گاﺅنرے بناکسا کو نیا صدر بنا دیا گیا اور امریکہ برطانیہ سے تعلقات استوار کئے گئے۔ 1980ءمےں یہاں زبردست قحط پڑا اور ہزاروں افراد مر گئے۔ اسی سال مئی مےں فوج نے بغاوت کر کے حکومت پر قبضہ کر لیا۔ اوبوٹے وطن واپس آگئے۔ انہوں نے ایشیائیوں کو واپس آنے کی دعوت دی اور آزادانہ انتخابات کا وعدہ کیا۔
جولائی 1985ءمےں فوج نے بغاوت کر دی۔ صدر اوبوٹے فرار ہوئے۔ فوج نے جنرل ٹیٹو اورکلو کو صدر بنا دیا لیکن حزب اختلاف کے قائد یوواری موسونی نے جس طرح اوبوٹے کے خلاف تحریک چلائی تھی، اس سے بھی زیادہ شدت سے فوجی حکومت کے خلاف بھی تحریک کو جاری رکھا۔ 29 جنوری 1986ءکو انہوں نے دارالحکومت کمپالا پر قبضہ کر لیا۔ یوواری صدر بنے اور آج تک وہی اس عہدے پر فائز ہےں۔ صدر یوواری نے خودکفالت کی بنیاد پر ملک کی اقتصادی حالت کو سنبھالا اور عیدی امین اور اوبوٹے کے ادوار کی لوٹ مار اور بدعنوانیوں کے برعکس ملک کو صاف ستھری انتظامیہ دی جس کی وجہ سے مغربی ممالک یوگنڈا کی بے دریغ مالی امداد کر رہے ہےں۔
مارچ 2001ءمےں وہ ستر فیصد ووٹ لے کر پھر صدر منتخب ہوئے۔ جون 2001ءمےں پارلیمانی انتخابات ہوئے نئے امیدواروں نے پچاس فیصد سے زیادہ نشستیں جیت لیں۔ اس سے ملک مےں تبدیلی کی خواہش کے رجحانات ابھرتے ہوئے نظر آئے۔ 
اگست 2005ءمےںپارلیمنٹ نے آئین مےں تبدیلی کر کے صدر پر سے زیادہ سے زیادہ بار منتخب ہونے کی حد اٹھا لینے کے لئے ووٹ دیا۔ اس سے پہلے جولائی مےں ایک ریفرنڈم مےں عوام نے اپنا ووٹ کثیر جماعتی نظام کے حق مےں دے کر غیر جماعتی سیاست کا خاتمہ کر دیا تھا۔
فروری 2006ءمےںملکی تاریخ کے پہلے کثیر جماعتی انتخابات منعقد ہوئے۔ حکومتی جماعت اگرچہ اکثریتی نشستیں جیتنے مےں کامیاب رہی مگر دیگر مضبوط حریف بھی ابھر کر سامنے آئے۔
٭٭٭٭٭٭٭

نائیجیریا Nigeria History


نائیجیریا
Nigeria
آزادی، یکم اکتوبر 1963ئ۔ سرکاری نام، وفاقی جمہوریہ نائیجریا۔ سرکاری زبان، انگریزی، ہوسا، اگبو، یوروبا۔ طرز حکومت، صدارتی وفاقی جمہوریہ۔ کرنسی، نائیجرین نائرا۔ فی کس آمدن، 2134ڈالر۔ کل رقبہ، 923768 مربع کلومیٹر۔ دارالحکومت، ابوجا۔ اہم شہر، ابادان، لاگوس، زاریا، کلابار۔ آبادی، 148,000,000 (تخمینہ 2007ئ) 
محل وقوع
براعظم جنوبی افریقہ مےں واقع ہے۔ اس کے شمال اور شمال مغرب مےں نائیجر، شمال مشرق مےں جھیل چاڈ، مشرق مےں کیمرون، جنوب مےں خلیج گئی اور مغرب مےں بینن واقع ہے۔
یہاں اپریل تا اکتوبر بارشیں ہوتی ہےں۔ نومبر تا مارچ موسم خشک رہتا ہے۔ ساحلی علاقوں کا درجہ حرارت کبھی 90درجہ فارن ہائیٹ سے زیادہ نہیں ہوتا۔
لوگ
مسلمان یہاں 50فی صد ہےں۔ عیسائی 40فی صد اور 10فی صد دیگر مذاہب کے لوگ ہےں۔ ایک مربع میل مےں 248افراد بستے ہےں۔ 35فی صد آبادی شہروں مےں رہتی ہے۔ ہوسا، یوروبا اور فولانی نسل سے لوگ تعلق رکھتے ہےں۔ شرح خواندگی 51فی صد ہے۔ مردوں کی اوسط عمر 48سال اور عورتوں کی 50سال ہے۔ آبادی مےں ہر سال 29فی صد اضافہ ہوتا ہے۔ نابالغ افراد کی اموات شرح 118فی ہزار ہے۔
وسائل
54فی صد لوگ زراعت کے پیشے سے وابستہ ہےں۔ زراعت سے ہونے والی آمدنی کل پیداوار کا 26فی صد ہے۔ 51فی صد حصہ زیر کاشت ہے۔ اہم زرعی پیداواروں مےں کپاس، گنا، روئی، کوکو، تمباکو، مونگ پھلی، سویا بین، کیلا اور ربڑ شامل ہےں۔ یہاں وسیع جنگلات ہےں۔ معدنیات سے یہ ملک مالامال ہے۔ تیل، گیس، کوئلہ، لوہا، چونا، سونا، قلعی اور جست جیسی اہم معدنیات یہاں پائی جاتی ہےں۔
اہم صنعتوں مےں کپڑا، چینی، تیل کی صفائی، ٹائر سازی، فرنیچر سازی، موٹر گاڑیاں اور غذاﺅں کو ڈبہ بند کرنا شامل ہےں۔ یہاں کی سڑکوں کی لمبائی 5ہزار میل ہے۔ 2200میل طویل ریلوے لائن بچھی ہوئی ہے۔ قومی ایئر لائنیز کا نام WAAC ہے۔ ملک مےں 13ہوائی اڈے ہےں۔ ملک کی جہاز ران کمپنی 1961ءسے کام کر رہی ہے۔ اہم بندرگاہوں مےں ہرکورٹ، لاگوس، وری اور کالابار شامل ہےں۔
اہم درآمدات مشینری، کیمیکلز، غذائی اشیاءمشروبات اور تمباکو ہےں جبکہ برآمدات مےں کافی، ربڑ، پٹرولیم پروڈکٹس، کھالیں اور کھجور کے نام شامل ہےں۔ 
تاریخ
یہ قدیم تاریخی ملک ہے۔ اس کی تاریخ 900ق م تک تلاش کی جاسکتی ہے۔ اسلام یہاں تیرھویں صدی عیسویں مےں پھیلا۔ یہاں فولانی قبائل نے ہوسا قبائل کو شکست دے کر 15ویں صدی مےں ایک سلطنت کی بنیاد رکھی۔ بعد کی دو صدیوں مےں پرتگالی اور برطانوی اقوام نے یہاں حکومت کی۔ 1861ءمےں برطانیہ نے دارالحکومت لاگوس پر مکمل قبضہ کر لیا اور آہستہ آہستہ برطانوی افواج نے دوسرے حصوں پر بھی اپنا قبضہ جمایا۔
یکم اکتوبر 1954ءکو وفاق نائیجریا کا قیام عمل مےں آیا۔ 1959ءمےں الحاج ابوبکر بولیوا وزیراعظم بن گئے۔ 1966ءکا فوجی انقلاب شمالی علاقوں تک محدود رہا۔ اس انقلاب کا رہنما جنرل ارونس تھا۔ آیبو قبائل جنرل کے ساتھ تھے۔ اس انقلاب مےں بالآخر ابوبکر تفاد بولیوا قتل ہوگئے۔ جنرل ارونس نے مئی 1966ءمےں ملک کا وفاق توڑ دیا اور اسے جمہوریہ قرار دیا جس سے ملک مےں خانہ جنگی شروع ہوگئی۔ جولائی 1996ءمےں فوجی افسروں نے بغاوت کے بعد جنرل ارونس کو قتل کر دیا۔ جنرل یعتوبو گوون جو چیف آف آرمی سٹاف تھے، صدر بن گئے۔ انہوں نے آتے ہی پھر وفاق کا قیام عمل مےں لایا، لیکن آیبو قبیلہ نے یہ بات ماننے سے انکار کر دیا۔ 
مئی 1967ءمےں مشرق مےں پیافرا کے نام سے ایک الگ جمہوریہ کا قیام عمل آیا۔ وفاقی حکومت نے الگ ریاست کی آزادی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ ملک مےں خانہ جنگی شروع ہوگئی۔ طویل خانہ جنگی کے بعد 1970ءمےں الگ ریاست کے باغیوں نے ہتھیار ڈال دیئے۔ 1978ءمےں نائیجریا کا آئین پاس ہوا۔ اگست 1983ءمےں شیخو شگاری ملک کے صدر بنے۔ 84ءمےں میجر جنرل بوہاری انقلابی ملٹری کونسل کے سربراہ بنے۔ 1985ءمےں ان کی جگہ جنرل ابراہیم بانگیلا نے لی۔ اپریل 1988ءمےں حکومت نے پٹرول کی قیمتوں مےں اضافے کا اعلان کیا جس پر عوام نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ مئی 1989ءمےں سیاسی جماعتوں پر سے پابندی کا خاتمہ کر دیاگیا۔ 26اگست 1993ءکو صدر ابراہیم اپنے عہدہ سے مستعفی ہوگئے۔ 
نومبر 1993ءمےں جنرل آبا چا ملک کے صدر بن گئے۔ انہیں ملک کے سب سے زیادہ رسوائے زمانہ سربراہ ہونے کا ”اعزاز“ حاصل ہوا۔ 8جون 1998ءکے روز حرکت قلب بند ہونے سے اس کا انتقال ہوا۔ اس کی جگہ ایک اور فوجی حکمران جنرل عبدالسلام ابوبکر برسر اقتدار آئے اور انہوں نے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔ فروری 1999ءمےں انتخابات ہوئے جن کے نتیجے مےں جنرل اولسگان اوسباسنجو غیر معمولی اکثریت سے صدر منتخب ہوئے۔ وہ سابقہ فوجی حکومت مےں تین سال تک قید مےں رہے اور انتخابات سے صرف آٹھ ماہ پہلے رہا ہوئے تھے۔ 2003ءکے عام انتخابات مےں انہیں دوبارہ صدر منتخب ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔
مذہب کے نام پر دہشت گردی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ 13اپریل 2007ءکے روز مذہبی رہنما اور سرکاری اہلکار استاذ جعفر آدم فجر کی نماز کے وقت مسجد کے باہر قتل کر دیا گیا۔ انہوں نے کچھ عرصہ پہلے ریڈیو پر ایک تقریر کے دوران انتخابات مےں دھاندلی کرنے اور متشددانہ کارروائیاں کرنے والوں سے ”آہنی ہاتھوں“ سے نمٹنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔
2007ءکے انتخابات مےں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے عمرو یارالدعا اور گڈلک جوناتھن صدر اور نائب صدر کے طور پر منتخب ہوئے۔ ان انتخابات کو بین الاقوامی مشاہدہ نگاروں کی طرف سے مستند ہونے کا فرمان نہ مل سکا۔
نئے صدر کو معیشت کی تعمیرنو کا کڑا مرحلہ درپیش ہے۔ بدعنوانی اور بد انتظامی نے معیشت کا ستیاناس کر رکھا ہے۔ اس کے علاوہ ملک بھر مےں نسلی اور مذہبی بنیادوں پر کشیدگی بھی پھیلی ہوئی ہے جسے ختم کرنا ملک کی تعمیر و ترقی کے لئے ناگزیر ہے۔
تیل کی انڈسٹری کو جس ایک اور مسئلے کا سامنا ہے، وہ یہ ہے کہ مختلف علاقوں مےں لوگ پائپ لائنوں مےں ڈرلنگ کر کے ذاتی ضروریات کے لئے خود ہی تیل نکال لیتے ہےں۔ اس کا نتیجہ اکثر دھماکوں اور جانی و مالی نقصان کی صورت مےں نکلتا ہے۔ مثال کے طور پر اکتوبر 1998ءمےں ایسے ایک دھماکے مےں ”جیسے“ کے علاقے مےں گیارہ سو افراد مارے گئے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Friday, 7 September 2012

نائیجر Niger History


نائیجر
Niger
آزادی، 3اگست 1960ئ۔ سرکاری نام، جمہوریہ نائیجر۔ سرکاری زبان، فرانسیسی۔ طرز حکومت، صدارتی جمہوریہ۔ کرنسی، ویسٹ افریقن سی ایف اے فرانک۔ فی کس آمدن، 738ڈالر، کل رقبہ 1267000 مربع کلومیٹر۔ دارالحکومت، نیامی۔ اہم شہر، زندر، مرادی، اغادیز۔ آبادی، 13,272,679 (جولائی 2008ئ)
محل وقوع
نائیجر وزیراعظم افریقہ کے جنوبی حصے مےں واقع ہے۔ اس کے شمال مےں الجزائر اور لیبیا، مشرق مےں چاڈ، جنوب مےں نائیجریا اور بینن اور جنوب مغرب مےں اپروولٹا اور مغرب مےں مالی واقع ہے۔ جنوبی سرے پر صحارا واقع ہے۔ علاقہ بے آب و گیاہ اور پہاڑی ہے۔ دریائے نائیجر اور ڈلیا اہم دریا ہےں۔ آب و ہوا گرم اور خشک ہے۔ اوسط درجہ حرارت 84فارن ہیٹ ہے۔
لوگ
85.5 فی صد لوگ مسلمان ہےں۔ باقی عیسائی اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھتے ہےں۔ ایک مربع میل مےں 16افراد رہتے ہےں۔ 21فی صد لوگ شہروں مےں رہتے ہےں۔ لوگ ہاوسا، جرما، فولانی اور تاورگ قبائل سے تعلق رکھتے ہےں۔ شرح خواندگی 28 فی صد ہے۔ نیامی شہر مےں کئی یونیورسٹیاں ہےں۔ شرح پیدائش 3.2فی صد ہے۔ 1000مےں 199بچے زچگی کے وقت فوت ہو جاتے ہےں۔ حکومت نے لوگوں کی صحت و فلاح کے لئے ہسپتال، ڈسپنسریاں وغیرہ قائم کر رکھی ہےں۔
وسائل
گوند، مونگ پھلی اور کپاس اہم فصلیں ہےں دیگر فصلوں مےں باجرہ، روغنی بیج، چاول، غلہ اور روئی شامل ہےں۔ 59فی صد زراعت سے قومی آمدنی حاصل ہوتی ہے۔ 90فی صد حصہ زیر کاشت ہے۔ کاسٹیرائٹ، جپسم، چونے کا پتھر، میلشیا، سونا، قلعی، معدنی نمک، یورینم، لوہا، کوئلہ، مینگانیز اور تیل قابل ذکر ہےں۔ برآمدات کے شعبے مےں 64فی صد آمدنی یورینم سے حاصل ہوتی ہے۔ یہاں بڑی بڑی زرعی صنعتیں قائم ہےں، کپڑا بننے، سیمنٹ تیار کرنے، دھات کا سامان بنانے، مشروبات کو بوتلوں مےں بند کرنے، چمڑا رنگنے اور رنگ و روغن تیار کرنے کی صنعتیں یہاں موجود ہےں۔
اہم درآمدات مےں مشینری، لوہا، سٹیل، پٹرولیم پروڈکٹس، کپاس، ربڑ اور مونگ پھلی کے نام آتے ہےں اور برآمدات مےں کاغذ، تمباکو، چینی، کپاس، سوتی دھاگہ، مویشیوں کی کھالیں، مونگ پھلی، زندہ مویشی اور یورینم شامل ہےں۔
تاریخ
یہ ملک قدیم تاریخ کا حامل ہے۔ شمالی افریقہ کے مسلمان جھیل چاڈ کے اردگرد کے علاقوں مےں آنے جانے کےلئے نائیجر سے گزرا کرتے تھے اور کبھی کبھی یہاں آباد ہو کر چھوٹے موٹے دیہات تعمیر کر لیتے تھے، گیارہویں صدی عیسوی کی مسلمان بستیوں کے آثار آج بھی قائم ہےں۔
یہاں چھٹی صدی سے اٹھارویں صدی تک مختلف قبائل حکومت کرتے رہے جن مےں شونگھائی، ہوسا اور فولانی قبائل قابل ذکر ہےں۔ گیارہویں صدی کے بعد یہاں ہوسا اور توریگ قبائل کی حکومت تھی۔ 1515ءمےں سونی کے مسلمان حکمران عقید محمد اول نے ہوسا قبائل پر لشکر کشی کر کے اغادیر کے شہر پر قبضہ کر لیا جس سے پھر تمام علاقوں پر مسلمانوں کی حکومت قائم ہوگئی۔ آہستہ آہستہ یہ قبائل سر اٹھانے لگے۔ ان کا ساتھ ان انگریزوں اور فرانسیسیوں نے دیا جو انیسویں صدی کے آغاز ہی سے وہاں بسنا شروع ہوگئے تھے۔
1890ءمےں فرانس نے جب یہاں قبضہ کیا تو یہاں کے عوام نے مسلح جدوجہد کی۔ 1892ءمےں اسے فرانسیسی نوآبادی قرار دیا گیا۔ 1958ءمےں اسے جزوی آزادی اور 1960ءمےں مکمل آزادی حاصل ہوگئی۔
صمانی ڈیوری ملک کے پہلے صدر تھے۔ جنہوں نے 15اپریل 1974ءتک حکومت کی۔ ان کا تختہ لیفٹیننٹ کرنل سینی کونچے نے الٹا دیا لیکن آنے والی حکومت بھی قحط سالی کو نہ ختم کر سکی۔ یہاں 1975ءمےں تیل اور فاسفیٹ کے ذخائر دریافت ہوئے۔ 76ءمےں صدر کے خلاف سازی کوکچل دیا گیا۔ 14نومبر 1987ءمےں کرنل علی میو ملک کے صدر بنے اور 1989ءمےں دوبارہ منتخب ہوئے۔ 27اکتوبر 1991ءمےں احمد وزیراعظم بنے۔ 1993ءمےں مہمانی عثمان صدر بنے اور محمد واسو خود وزیراعظم۔ 
نائیجر یورینیم کی پیداوار کے لئے معروف ہے۔ دنیا کا 40فی صد یورینم یہاں سے نکلتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ بجلی کا کوئی پلانٹ یہاں موجود نہیں اور نہ ہی کوئی ٹیکنالوجی اور فنی مہارت۔ اس لئے یہ یورینم کو اونے پونے یورپی ملکوں کے ہاتھوں فروخت کرنے پر مجبور ہے کیونکہ 90فی صد آمدنی یورینم سے حاصل ہوتی ہے۔
اکتوبر 1991ءکے آخر مےں توریگ قبائل نے شورشیں برپا کیں۔ ملک مےں ایک بار پھر خونی جھڑپیں ہوئیں جن مےں سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے۔ جنوری 1993ءمےں ملک کے پہلے کثیر جماعتی انتخابات ہوئے لیکن جولائی مےں فوجی رہنما ابراہیم بارے نے فوجی انقلاب برپا کر دیا اور خود صدر بن گیا۔
اپریل 1999ءمےں صدر ابراہیم بارے کو اس کے حفاظتی دستے نے قتل کر دیا۔ ایک ”قومی اصلاحی کونسل“ نگرانِ کار کے طور پر بنی جس نے داﺅد مالم مانکے کو عارضی صدر مقرر کیا۔ قومی اصلاحی کونسل نے اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے نومبر مےں انتخابات کروائے جس مےں تانجا محمد صدر منتخب ہوئے۔
2004ءمےں امریکہ اور برطانیہ دونوں نے دعویٰ کیا کہ عراق نے ایٹم بم بنانے کے لئے نائیجر سے یورینیم حاصل کر لیا تھا مگر وہ کوئی ثبوت پیش نہ کر سکے۔ جولائی 2004ءمےں نائیجر نے اختیارات کی ڈی سنٹر لائزیشن کے عمل کو جاری کرنے کے لئے میونسپل انتخابات کرائے اور 3700کے لگ بھگ افراد منتخب ہو کر مقامی حکومتوں مےں پہنچے۔ حکمران جماعت کو نشستوں کی اکثریت حاصل ہوئی مگر حزب اختلاف کی جماعتوں نے بھی بہتر کارکردگی دکھائی۔
نومبر اور دسمبر 2004ءمےں قانون ساز مجلس اور صدارت کے انتخابات ہوئے۔ تانجا محمد دوسری مرتبہ صدر منتخب ہوئے اور بین الاقوامی مشاہدہ نگاروں نے ان انتخابات کو عمومی طور پر آزاد اور منصفانہ قرار دیا۔ نائیجر کی تاریخ مےں پہلی مرتبہ خالص جمہوری طریقے سے کوئی صدر منتخب ہوا تھا اور یہ نایئجر کی نوخیز جمہوریت کے لئے ایک امتحان تھا۔ قانون ساز مجلس کے انتخابات مےں بھی صدر کی حامی جماعتوں کو اکثریت حاصل ہوئی۔
2007ءمےں پھر توریگ قبائل کی طرف سے باغیانہ سرگرمیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس مرتبہ ان سرگرمیوں مےں ایک غیر معروف گروہ کا نام سننے مےں آیا۔ اس گروہ کی طرف سے بہت سے مطالبات پیش کئے گئے ہےں۔ اس گروہ کی سرگرمیوں نے نائیجر کی سیاحتی صنعت کو تباہ کر دیا ہے اور کان کنی اور تیل مےں ہونے والی سرمایہ کاری کا عمل رُک گیا ہے۔
٭٭٭٭٭٭

ملائیشیا Malaysaia History


ملائیشیا
Malaysaia
قیام، 16ستمبر 1963ئ۔ سرکاری نام، ملائیشیا۔ سرکاری زبان، ملائی۔ طرز حکومت، وفاقی آئینی منتخب بادشاہت اور پارلیمانی جمہوریہ۔ کرنسی، رنگٹ۔ فی کس آمدن، 14071ڈالر۔ کل رقبہ 329845مربع کلومیٹر۔ دارالحکومت، کوالالمپور۔ اہم شہر، جوہر بہارو، جارج ٹاﺅن (پینانگ)، کیلانگ۔ آبادی، 28,276,000 (تخمینہ جون 2009ئ)
محل وقوع
براعظم جنوب مشرق ایشیا مےں واقع ہے۔ اس کے مشرق مےں بحیرہ ¿ جنوبی چین، شمال مےں تھائی لینڈ اور جنوب مےں سنگاپور ہے۔ آب و ہوا مرطوب ہے اور بارشیں بہت زیادہ ہوتی ہےں۔ 
لوگ
یہاں کے 51فی صد سے زائد لوگ مسلمان ہےں۔ دیگر مذاہب کے لوگ بھی بستے ہےں۔ جن مےں ہندو، بدھ مت، تاﺅمت اور عیسائی شامل ہےں۔ 59فی صد لوگ ملائی، 32فی صد چینی اور 9فی صد ہندوستانی نسل سے تعلق رکھتے ہےں۔ یہاں کے 80فی صد لوگ خواندہ ہےں۔ نوجوانوں کی 96فی صد تعداد سکولوں اور کالجوں مےں جاتی ہے۔ مردوں کی اوسط عمر 65سال اور عورتوں کی ستر سال ہے۔ شرح پیدائش 2.4فیصد سالانہ ہے۔ 442افراد کے لئے ہسپتال مےں ایک بستر اور 2700افراد کے لئے ایک ڈاکٹر کی سہولت میسر ہے۔ اطفال مےں شرح اموات 29فی ہزار ہے۔
وسائل
اہم زرعی پیداواروں مےں چاول، ناریل، سیاہ مرچ، کیلا، پپیتا، آم اور ربڑ شامل ہےں۔ زراعت مےں ملائیشیا نے بہت شاندار ترقی کی ہے۔ معدنیات مےں قلعی قابل ذکر ہے۔ ملائیشیا دنیا کا قلعی پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ دیگر معدنی وسائل مےں سونا، کوئلہ، تیل، چینی، مٹی، تانبہ اور دیگر دھاتیں شامل ہےں ملک کی معدنی پیداوار کی وجہ سے ملک تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ ملائیشیا مےں صنعت نے بھی بہت ترقی کی ہے۔ ربڑ کی مصنوعات، فولاد، الیکٹرانکس کے آلات، سگریٹ، بسکٹ، فرنیچر، کشتی سازی اور برتن سازی اہم صنعتیں ہےں۔
اہم درآمدات مےں سبزیوں کا تیل، مشینری، خوراک، ٹرانسپورٹ کے آلات اور مشروبات شامل ہےں۔ برآمدات پٹرولیم، کپڑے، ربڑ، کھجور کا تیل، بجلی کا سامان، لکڑی، کپڑے اور جوتے قابل ذکر ہےں۔
تاریخ
 878عیسوی مےں اسلام نے اس علاقے کو منور کیا اور اس مذہب نے یہاں بہت ترقی کی۔ لوگ سنی العقیدہ ہےں۔ 15ویں صدی مےں سماٹرا کے بادشاہ میشورار نے اس سلطنت کی بنیاد رکھی مگر صرف 15سال بعد ہی پرتگالیوں نے اس پر قبضہ کر لیا۔ انہوں نے مسلمانوں کو بہت نقصان پہنچایا۔ تقریباً ڈیڑھ سو سال بعد 1641ءمےں یہاں ولندیزیوں نے قبضہ کر لیا۔ 1795ءمےں یہ علاقہ برطانیہ کے زیر سایہ چلا گیا۔ 1941ءمےں جاپان قابض ہوگیا مگر جنگ عظیم کے بعد صورتحال بدل گئی۔ جاپان پسپا ہوا۔ ملائیشیا مےں آزادی کی جنگ لڑی گئی۔ یونائیٹڈ ملائیشیا نیشنل آرگنائزیشن تنظیم قائم کی گئی جس نے ملک بھر مےں عوامی جذبات کی ترجمانی کی۔ بالآخر برطانیہ کو مجبور ہو کر مقامی رہنماﺅں سے مذاکرات کرنا پڑے۔
21اگست 1957ءکو مرکزی حکومت کے تحت ملائیشیا کی ریاستوں کا وفاق عمل مےں آیا۔ 17ستمبر 1957ءکو یہ اقوام متحدہ کا ممبر ملک بن گیا۔ 1960ءتک یہ مکمل آزاد اور خودمختار ملک بن گیا۔ تنکو عبدالرحمن ملک کے پہلے وزیراعظم بنے۔ 1970ءمےں کمیونسٹ تحریک نے زور حاصل کیا مگر اس تحریک کو کچل دیا گیا۔ اس دوران 65ارکان کی مشاورتی کونسل بنائی گئی تاکہ ملک مےں امن و امان ہو۔ ستمبر 1970ءمےں تنکو عبدالرحمن اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔ تنکو عبدالرزاق نے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالا جنہوں نے پارلیمانی نظام کو فروغ دیا۔ 24اگست 1974ءکے انتخابات مےں ان کی پارٹی واضح اکثریت سے جیتی۔
14جنوری 1976ءکے روز تنکو عبدالرزاق انتقال کر گئے اور نائب وزیراعظم دتو حسین بن عون وزیراعظم بن گئے۔ کمیونسٹوں کا انقلاب روکنے کے لئے حکومت نے سختی کی پالیسی اختیار کی۔ نسلی امتیاز کی پالیسی سے بچنے کے لئے چینی پیشہ ور کاریگر ملک چھوڑ کر جانے لگے۔ حسین بن عون کی جماعت نے 1978ءکے انتخابات مےں دوتہائی کی اکثریت حاصل کی۔ 1981ءمےں حسین بن عون صحت کی خرابی کی وجہ سے سبکدوش ہوگئے اور ان کی جگہ مہاتیربن محمد وزیراعظم بنے۔ 1982ءکے انتخابات مےں ان کے زیر قیادت ان کی جماعت نے واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔
1990ءتک مہاتیر محمد کی معاشی حکمت عملیوں کی بدولت ملائیشیا ایشیاءکی عظیم معاشی قوت بن گیا اور اس کا شمار ترقی یافتہ ممالک مےں ہونے لگا لیکن 1997ءکے کرنسی کے بحران نے اس ترقی کو خاصا دھچکا پہنچایا۔ بہرحال، مہاتیر محمد آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی پالیسیوں پر نہیں چلے بلکہ اپنی راہ خود متعین کی اور بالآخر ملک کو بحران سے نکالنے مےں کامیاب رہے۔
1998ءمےں مہاتیر محمد نے اسلامی رہنما اور نائب وزیراعظم انور ابراہیم کو برطرف کر دیا جن پر مختلف نوع کے الزامات تھے۔ 2003ءمےں بائیس برس حکومت کرنے کے بعد مہاتیر محمد سیاست سے ریٹائر ہوگئے اور ان کی جگہ عبداللہ بدوی نے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالا۔ مارچ 2004ءمےں عام انتخابات ہوئے جن مےں حکمران جماعت نے نوے فیصد ووٹ حاصل کئے۔ عبداللہ بدوی نے باقاعدہ طور پر وزیراعظم کا عہدہ سنبھال لیا۔ اسی سال انور ابراہیم کو بھی رہا کر دیا گیا۔ 
اگرچہ ملائیشیا کی ترقی کی رفتار کسی ترقی یافتہ ملک سے کم نہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے ہی چند سالوں مےں یہ ایک ترقی یافتہ ملک کا درجہ حاصل کر لے گا تاہم اس کے سیاسی نظام کی سخت گیری پر اکثر اعتراضات اٹھائے جاتے رہتے ہےں۔ یہاں کثیر جماعتی نظام کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی، پریس پر قدغنیں عائد ہےں، عدلیہ کو آزاد تصور نہیں کیا جاتا اور کئی مدنی و سیایس آزادیاں نظر نہیں آتیں۔ تاہم اس وقت اگر اسلامی دنیا کے حالات کو مدنظر رکھا جائے اور ملائیشیا کے سیاسی استحکام اور معاشی ترقی پر نگاہ ڈالی جائے تو یہ کہے بغیر چارہ نہیں رہتا کہ ملائیشیا کے نظام کی یہ سخت گیری اس کے حق مےں مفید ثابت ہوئی اور ملکی عوام مےں سیاسی شعور مناسب حد تک پختہ ہو جانے کے بعد انہیں سیاسی آزادیوں سے روشناس کرا دیا جائے تو ہی مناسب رہے گا۔
2008ءکے انتخابات مےں حکومتی جماعت دوتہائی اکثریت حاصل نہ کر سکی۔ اس کی ناکامی کی وجوہات مےں افراط زر کی بلند شرح، جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح، نسلی بنیادوں پر کشیدگی اور کئی دیگر وجوہات کو گنوایا گیا تاہم عبداللہ احمد بداوی دوسری مرتبہ وزیراعظم بننے مےں کامیاب رہے۔ 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

مصر Egypt History


مصر
Egypt
قیام، 18 جون 1953ئ۔ سرکاری نام، جمہوریہ مصر العریبہ۔ سرکاری زبان، عربی۔ طرز حکومت، نیم صدارتی جمہوریہ۔ کرنسی، مصری پاﺅنڈ۔ فی کس آمدن، 5898ڈالر۔ کل رقبہ، 1002450 مربع کلومیٹر۔ دارالحکومت، قاہرہ۔ اہم شہر، الجزہ، شبریٰ الخیامہ، سکندریہ، پورٹ سعید، المنصورہ۔ آبادی، 82,999,00 (تخمینہ 2009ئ)
محل وقوع
یہ ملک براعظم افریقہ مےں اندر کی جانب واقع ہے اور افریقہ کے شمال کی طرف ہے۔ اس کے شمال مےں بحیرہ روم، مشرق مےں اسرائیل اور بحیرہ قلزم (احمر)، جنوب مےں سوڈان اور مغرب مےں لیبیا واقع ہےں۔ اس کی آب و ہوا گرم اور خشک ہے۔ تاہم ساحلی علاقوں مےں آب و ہوا مرطوب ہے۔ بارشیں مختلف علاقوں مےں مختلف اوسط سے ہوتی ہےں۔ دنیا کے سب سے طویل دریا نیل کا زیادہ تر گزر اسی مےں سے ہے۔
لوگ
نوے فی صد لوگ مسلمان ہےں۔ دس فی صد لوگ عیسائی مذہب کے پیروکار ہےں۔ فی مربع میل مےں 140افراد بستے ہےں۔ 44فی صد لوگ شہروں مےں رہتے ہےں۔ نوے فی صد ہمیٹک قبائل سے تعلق رکھتے ہےں جبکہ دیگر مےں بدو اور نوبیائی لوگ شامل ہےں، 6 سے 12سال کی عمر کے بچوں کے لئے تعلیم حاصل کرنا لازمی ہے۔ 44فی صد لوگ خواندہ ہےں۔ مردوں کی اوسط عمر 60برس اور عورتوں کی 61برس ہے۔ شرح اضافہ آبادی 2.3فی صد سالانہ ہے۔ 505افراد کے حصے مےں ہسپتال کا ایک بستر اور 616افراد کے حصہ مےں ایک ڈاکٹر آتا ہے۔
وسائل
44 فی صد لوگ زراعت کے پیشے سے وابستہ ہےں جو کل ملکی پیداوار کا 20فی صد ہے۔ 4فیصد رقبے پر کاشت ہوتی ہے۔ برآمدات مےں زراعت کا حصہ 50فی صد ہے۔ اسوان ہائی ڈیم، اسیوط بیراج اور محمد علی بیراج اس کی اراضی کو سیراب کرنے مےں اہم معاون ہےں۔ مصر کی زمین دنیا کی زرخیر ترین زمینوں مےں سے ہے۔ یہاں کی کپاس دنیا کی بہترین کپاس ہے۔ دیگر زرعی اجناس مےں چاول، مکئی، باجرہ، برسیم، دالیں، چنا، تیل نکالنے والے بیج اور جو شامل ہےں۔ تیل، فاسفیٹ، نمک، خام لوہا، سیمنٹ کا پتھر، مینگانیز، سونا، جپسم اور یورنیم یہاں کی اہم معدنیات مےں شامل ہےں۔ پارچہ بافی، کیمیائی اشیائ، تیل کی مصنوعات، غذاﺅں کی پیکنگ اور سیمنٹ یہاں کی اہم صنعتیں ہےں۔ یہاں 3327 میل لمبی ریلوے لائن اور تیس ہزار میل لمبی سڑکیں موجود ہےں۔ قاہرہ، سکندریہ، پورٹ سویز اہم بندرگاہیں ہےں۔
تاریخ
تاریخی لحاظ سے یہ ملک بہت قدیم ہے۔ اس کی تہذیب بھی دنیا کی قدیم ترین تہذیب ہے۔ 3200ق م مےں یہاں جیتا جاگتا ماحول تھا اور ترقی یافتہ بھی۔ یہاں کے اہرام جن کا دنیا کے عجوبوں مےں شمار ہوا ہے، 2600ق م اور 2500ق م مےں تعمیر ہوئے۔ 525ءمےں یہ ایران کے زیر قبضہ آگیا۔ 640ءمےں حضر عمرؓ کے عہد مےں اسلامی حکومت مےں شامل ہوا۔ اس علاقے کو حضرت عمروؓ بن العاص نے فتح کیا تھا۔
1517ءمےں یہ علاقہ ترکوں کی عثمانی سلطنت کے زیر نگیں آگیا۔ 1798ءمےں نپولین بونا پارٹ نے اس پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد فرانس اور برطانیہ کے زیر اثر یہ علاقہ رہا۔ 1882ءمےں برطانیہ نے اس پر مکمل قبضہ کر لیا۔ 1914ءمےں یہ علاقہ برطانیہ کے زیر نگرانی قرار پایا۔ 1922ءمےں شاہ فواد اول یہاں کا حکمران بنا۔ 1936ءمےں اس کا بیٹا فاروق تخت نشین ہوا۔ دوسری جنگ عظیم مےں مصر اتحادیوں کا ایک بہت اہم اڈا تھا۔ 1948ءمےں عرب اسرائیل جنگ مےں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
1952ءجنرل محمد نجیب نے شاہ فاروق کا تختہ الٹ دیا اور ملک کو جمہوری ملک قرار دے دیا۔ نائب وزیراعظم جمال عبدالناصر بنے۔ مگر اختلافات پر جنرل جلد ہی اقتدار سے علیحدہ ہوگئے اور جمال عبدالناصر صدر بن گئے۔ اکتوبر 1954ءمےں نہر سویز سے برطانوی فوج کے انخلاءکا معاہدہ طے پایا اور نہر کو بین الاقوامی آبی راستہ قرار دے دیا گیا۔ جولائی 1956ءمےں امریکہ برطانیہ اور بین الاقوامی بنک نے اسوان ہائی ڈیم کی تعمیر مےں مصر کو قرضہ دینے سے انکار کر دیا جس پر مصر نے نہر سویز کو قومی ملکیت مےں لے لیا۔ اسرائیل، برطانیہ اور امریکہ نے مل کر مصر پر حملہ کیا اور شکست کھائی، اقوام متحدہ کی مداخلت پر جنگ بند کرنا پڑی۔ 1970ءمےں انوارالسادات، جمال عبدالناصر کی وفات پر صدر بنے۔ انہوں نے مغرب سے دوستی کا اظہار کیا جس پر عربوں نے مصر کو مالی امداد بھی دی۔ جون 1967ءمےں اسرائیل نے جو علاقہ زیر قبضہ کر رکھا تھا 1973ءمےں اس کے ایک بڑے حصے کو آزاد کروا لیا گیا۔ صدر انور السادات نے 18مئی 1978ءکو کیمپ ڈیوڈ کے مقام پر اسرائیل سے معاہدہ کیا۔ اس دوران مصری صدر نے اسرائیل کا دورہ بھی کیا جس کے تحت صحرائے سینا مصر کو مل گیا۔ 6اکتوبر 1981ءکے روز اسرائیل سے مذاکرات پر ناراض فوجیوں نے انور سادات کو ایک فوجی پریڈ کے دوران فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ ان کے بعد حسنی مبارک صدر بنے اور اب تک اقتدار سنبھالے ہوئے ہےں۔ ان کی حکومت اسلام پسندوں پر سخت گیری اور مغرب نوازی کے لئے خاص شہرت رکھتی ہے۔ 
٭٭٭٭٭٭

Sunday, 2 September 2012

مراکش Morocco History


مراکش
Morocco
آزادی، فرانس سے آزادی 2مارچ 1956ءاور سپین سے آزادی 7اپریل 1956ءکے روز حاصل ہوئی۔
سرکاری نام، سلطنت مراکش۔ سرکاری زبان، عربی۔ طرز حکومت، آئینی بادشاہت۔ کرنسی، مراکشی درہم۔ فی کس آمدن، 4349ڈالر۔ کل رقبہ 446550 مربع کلومیٹر۔ دارالحکومت، رباط۔ اہم شہر، کاسابلانکا، مراکش، فیز، طنجہ۔ آبادی، 31,993,000 (تخمینہ 2009ئ)
محل وقوع
براعظم جنوب مغربی افریقہ مےں واقع ہے۔ اس کے شمال مےں بحیرہ روم، مشرق اور جنوب مشرق مےں الجزائر، جنوب مےں مغربی (ہسپانوی) صحرا اور مغرب مےں بحر اوقیانوس واقع ہےں۔ شمال مشرق سے جنوب مغرب تک اس کی لمبائی 825میل اور مشرق سے جنوب تک 475میل چوڑائی ہے۔ یہ 5قدرتی خطوں مےں منقسم ہے۔ اطلس اعظم، وسطی اطلس اور اطلس داخلیہ اہم پہاڑی سلسلے ہےں۔ آب و ہوا معتدل ہوتی ہے۔ بارشیں بہت زیادہ ہوتی ہےں۔
لوگ
99فی صد لوگ مسلمان ہےں۔ ایک فی صد کیتھولک اور یہودی ہےں۔ ایک مربع میل مےں 15افراد رہتے ہےں۔ عرب بربر 99فیصد ہےں۔ شرح خواندگی 30فیصد ہے۔ مردوں کی اوسط عمر 63سال اور عورتوں کی 66سال ہے۔ آبادی مےں شرح اضافہ 2.2فی صد سالانہ ہے۔ 918افراد کے لئے ہسپتال کا ایک بستر اور 4873کے لئے ایک ڈاکٹر۔ اطفال مےں شرح اموات 76فی ہزار ہے۔
وسائل
ملک کی آبادی کا بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے۔ زراعت کل ملکی پیداواری آمدنی کا 17فی صد ہے۔ گندم، جو، زیتون، اہم فصلیں ہےں۔ گلہ بانی اور ماہی گیری اہم پیشے ہےں۔ فاسفیٹ یہاں کی اہم معدنی دولت ہے۔ فاسفیٹ کے علاوہ کوئلہ، سونا، خام تیل، لوہا، سیسہ، کوبالٹ، زنک، مینگانیز، چاندی، سرمہ اور سنگ مرمر اہم معدن ہےں۔
یہاں کی صنعت اتنی قابل ذکر نہیں تاہم کاراسمبلنگ، چینی ادویہ، چمڑہ سازی، قالین سازی اور پارچہ بافی قابل ذکر ہےں۔ ریلوے لائنوں کی لمبائی 1893کلومیٹر اور سڑکوں کی لمبائی چالیس ہزار میل ہے۔ رائل ایئر قومی ایئر لائن ہے۔ ملک مےں 15ہوائی اڈے ہےں۔ مراکش نیوی گیشن کمپنی ایک سرکاری کمپنی ہے جس مےں حکومت کے 96فی صد حصص ہےں۔
تاریخ
جدید مراکش کا علاقہ 8ہزار سال قبل مسیح مےں آباد ہوا۔ قدیم دور مےں یہ موریطانیہ کہلاتا تھا۔ واضح رہے کہ موریطانیہ نام کا ملک بھی مراکش کے قریب ہی واقع ہے۔ شمالی افریقہ اور مراکش عظیم رومی سلطنت کا حصہ رہے ہےں اور رومی سلطنت مےں مراکش کا علاقہ Mauretania Tingitana کہلاتا تھا۔ 5ویں صدی مےں رومی سلطنت کے زوال کے بعد وینڈلز، وزیگوتھ اور بازنطینی یونانیوں نے اس سرزمین پر قبضہ کیا۔ اس دور مےں بھی جدید مراکش کے پہاڑی علاقے آزاد رہے جن مےں بربر نسل کے لوگ رہتے تھے۔ 
ساتویں صدی عیسوی مےں اسلام یہاں پہنچا جب حضرت عقبہ بن نافع اور موسیٰ بن نصیر نے اسے فتح کیا۔ خاندان امیہ کے حکمران ادریس اول نے اس علاقے کو بہت ترقی دی اور ایک ترقی یافتہ علاقہ بنانے مےں اہم کردار ادا کیا۔ 1061ءسے 1106ءتک یوسف بن تاشفین یہاں حکمران رہا اور بہت سے افریقی علاقے اس نے فتح کئے۔ عبدالمومن بن علی نے اس کے بعد مراکش اور اندلس کے علاقے فتح کئے۔ یعقوب المنور نے 1184ءسے 1199ءتک یہاں حکومت کی۔
بعدازاں سلطنت علویہ نے عروج حاصل کیا جسے سپین اور مسلسل مغرب کی جانب توسیع پانے والی سلطنت عثمانیہ کی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا۔ علوی اپنی حیثیت کو برقرار رکھنے مےں کامیاب رہے حالانکہ ان کی حکومت گذشتہ حکومتوں کے مقابلے مےں چھوٹی لیکن کافی دولت مند تھی۔ 1684ءمےں انہوں نے طنجہ پر بھی قبضہ کر لیا۔
مراکش پہلا ملک ہے جس نے 1777ءمےں امریکہ کو بطور آزاد ملک تسلیم کیا۔ امریکی انقلاب کے آغاز مےں بحر اوقیانوس مےں سفر کرنے والے امریکی جہازوں پر بربر قزاق حملے کیا کرتے تھے۔ اس وقت امریکیوں نے یورپی قوتوں سے مدد کی درخواست کی لیکن اس کی شنوائی نہیں ہوئی۔ 20دسمبر 1777ءکو مراکش کے سلطان نے اعلان کیا کہ امریکی تاجروں کے جہاز سلطنت کی حفاظت و امان مےں ہوں گے۔ 
امریکہ مراکش دوستی کا یہ معاہدہ امریکہ کا قدیم ترین دوستی کا معاہدہ ہے جو آج تک برقرار ہے۔ اس معاہدے پر جون ایڈمز اور تھامس جیفرسن نے دستخط کئے تھے۔ اور یہ 1786ءسے نافذ ہے۔ صدر جارج واشنگٹن نے سلطان سیدی محمد کو خط لکھا جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مستحکم ہوئے۔ طنجہ مےں امریکی قونصلیٹ ملک سے امریکی حکومت کی پہلی ملکیت تھی۔ اس عمارت مےں اب طنجہ امریکن لیگیشن میوزیم قائم ہے۔
مراکش اس وقت افریقہ مےں سب سے دولت مند ملک تھا اور وہ بحیرہ روم مےں داخلے کے راستے پر قائم ہونے اور اپنے بہترین محل وقوع کے باعث یورپی استعماری قوتوں کی نظر مےں آگیا۔ فرانس نے 1830ءمےں مراکش مےں زبردست دلچسپی دکھائی۔ 1904ءمےں مراکش مےں فرانس کے حلقہ اثر کی برطانوی قبولیت نے جرمنی مےں زبردست ردعمل پیدا کیا اور جون 1905ءکے اس بحران کو 1906ءمےں سپین مےں الجزیراس کانفرنس کے ذریعے حل کیا گیا جس کے ذریعے مراکش مےں فرانس کی ”خصوصی حیثیت“ اور فرانس اور اسپین کے مشترکہ قبضے کو تسلیم کیا گیا۔ یورپی قوتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ساتھ مراکش کا دوسرا بحران برلن نے پیدا کیا اور 30مارچ 1912ءکو معاہدہ فاس کے تحت مراکش کو فرانس کی کالونی بنا دیا گیا۔ معاہدے کے تحت اسی سال 27نومبر کو سپین کو شمالی و جنوبی علاقوں کا قبضہ دیا گیا۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد طے پانے والے میثاق اوقیانوس کے تحت مراکش کی کئی قومی سیاسی جماعتوں نے ملک کی آزادی کامطالبہ کیا اور استقلال پارٹی نے پہلی مرتبہ 1944ءمےں عوامی سطح پر آزادی کی آواز اٹھائی۔
1953ءمےں سلطان محمد پنجم کی مڈغاسکر جلاوطنی اور ان کی جگہ غیر مقبول محمد بن عارفہ کی تقرری نے ملک بھر مےں فرانس کے خلاف زبردست ردعمل پیدا کیا۔ اس دوران سب سے مشہور واقعہ اوجدا مےں مراکشی باشندوں کو فرانس اور دیگر یورپی باشندوں کی رہائش گاہوں پر حملہ تھا۔ فرانسی قبضے کے خلاف یکم اکتوبر 1955ءکو ”آرمی ڈی لبریشن“ قائم کی گئی۔ اس کا ہدف سلطان محمد پنجم کی وطن واپسی اور الجزائر اور تیونس کی آزادی تھا۔ فرانس نے 1955ءمےں محمد پنجم کو وطن واپسی کی اجازت دی اور مذاکرات کا آغاز ہوا جو بالآخر اگلے برس مراکش کی آزادی پر منتج ہوئے۔ یہ ”انقلاب شاہ و عوام“ کہلاتا ہے جسے ہر سال 20اگست کو منایا جاتا ہے۔
مراکش جون 2004ءمےں امریکہ کا نان نیٹو اتحادی قرار پایا اور اس نے امریکہ و یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارت کے معاہدے کئے۔
2003ءمےں مراکش کا سب سے بڑا شہر کاسابلانکا دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنا۔ ان حملوں کا نشانہ مغربی اور یہودی باشندے تھے جس مےں 33شہری ہلاک اور 100سے زائد زخمی ہوئے جن کی اکثریت مراکشی تھی۔
2006ءمےں مراکش نے آزادی کی 50ویں سالگرہ منائی۔

متحدہ عرب امارات United Arab Emirate History


متحدہ عرب امارات
United Arab Emirates
آزادی، 2دسمبر 1971ئ۔ سرکاری نام، الامارات العربیہ متحدہ۔ سرکاری زبان، عربی۔ طرز حکومت، وفاقی آئینی بادشاہت۔ کرنسی، اماراتی درہم۔ فی کس آمدن، 38830ڈالر۔ کل رقبہ، 83600مربع کلومیٹر۔ دارالحکومت، ابوظہبی۔ اہم شہر، دبئی، شارجہ، راس الخیمہ، عجمان۔ آبادی، 4599000 (تخمینہ 2009ئ)
محل وقوع
براعظم شمالی افریقہ مےں واقع ہے۔ یہ سات ریاستوں دوبئی، شارجہ، راس الخیمہ، فجیرہ، ام القوین، ابوظہبی اور عمان کا مجموعہ ہے۔ اس کے شمال مغرب اور جنوب مےں سعودی عرب، مشرق اور شمال مشرق مےں عمان اور شمال مےں خلیج فارس ہے جو اسے ایران سے ملاتی ہے۔ اندرونی اعتبار سے یہ ریاستیں سعودی عرب سے ملتی ہےں۔ شرقاً غرباً 375میل لمبی اور شمالاً جنوباً 70میل چوڑی ہے۔ جنوب مےں ہجر (Hajar) کی پہاڑیاں واقع ہےں۔ یہاں کے ساحلی علاقوں کی آب و ہوا گرم مرطوب ہے۔ موسم گرما مےں مختلف حلقوں مےں درجہ حرارت مختلف ہوتا ہے۔ سردیوں مےں موسم خاصا سرد ہوتا ہے۔ 
لوگ
94فی صد لوگ مسلمان ہےں۔ فی مربع میل مےں 74افراد آباد ہےں۔ یہاں عرب، ایرانی، پاکستانی اور بھارتی نسل کے لوگ بھی رہتے ہےں۔ یہاں 44ہسپتال ہےں جن مےں 7500 سے زائد بستر ہےں۔ 3ہزار ڈاکٹر اور آٹھ ہزار نرسیں ملک مےں موجود ہےں۔ تعلیم بالکل مفت ہے۔ خواندگی 70فی صد ہے۔
وسائل
متحدہ عرب امارات حالانکہ صحرائی ملک ہے پھر بھی زراعت مےں اس ملک نے حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ راس الخیمہ اس ملک کی کل زرعی پیداوار کا نصف حصہ فراہم کرتا ہے۔ یہاں صحرا کے وسیع علاقے مےں 60ملین درختوں کی تجرکاری کی گئی ہے۔ ٹماٹر کھجور، تربوز، خربوزے اور تمباکو بھی یہاں کاشت ہوتے ہےں۔ گلہ بانی بھی ہوتی ہے جبکہ مرغیوں اور انڈوں کی پیداواری صلاحیت بڑھائی جا رہی ہے۔
ملک کی آمدن کا بڑا حصہ تیل سے حاصل ہوتا ہے۔ تیل کی موجودہ پیداوار 3ملین بیرل روزانہ ہے۔ یہ ملک ہائیڈرو کاربن فیول کی پیداوار مےں دوسرا اور گیس کی پیداوار مےں دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے۔ صنعت کا بڑا حصہ ابوظہبی مےں ہے۔ یہاں تیل اور گیس کو مائع مےں تبدیل کرنے کے پلانٹ تعمیر کئے گئے ہےں۔ ابوظہبی مےں تیل صاف کرنے کے دو کارخانے اور گیس کو مائع بنانے کے پلانٹ دوبئی اور شارجہ مےں ہےں۔ جاپان کو یہاں سے گیس اور تیل برآمد کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ المونیم، کپڑے، برتن سازی، کیمیائی اشیائ، کھاد سیمنٹ اور پلاسٹک کی اشیاءتیار کی جاتی ہےں۔
یہاں کی اہم درآمدات مےں لائیو سٹاک، مشروبات، کولتار، مشینری، کیمیکلز اور ٹرانسپورٹ کا سامان شامل ہےں۔
تاریخ
پندرھویں اور سولہویں صدی مےں اس پر پرتگالیوں کا قبضہ تھا۔ بعد مےں اس پر ایران قابض ہوگیا۔ 1783ءمےں یہاں کے باشندوں نے ایرانیوں کو ملک سے نکال دیا۔ 1866ءمےں انگریزوں نے یہاں قدم جمانے شروع کر دیئے اور یہ ملک آہستہ آہستہ برطانیہ کے زیر تحفظ آگیا۔ اس دوران بحری قزاقوں نے بڑا سر اٹھا رکھا تھا جن کا انگریزوں نے خاتمہ کر دیا۔ 1880ءسے 1916ءتک برطانیہ سے یہاں کے حکمرانوں نے متعدد معاہدے کئے۔ 1958ءمےں یہاں پر تیل دریافت ہوا۔
1971ءمےں برطانیہ سے کئے گئے حفاظت و انتداب کے معاہدے ختم ہوگئے اور امارات کو مکمل آزادی حاصل ہوگئی۔ اس کا نیا نام متحدہ عرب امارات رکھا گیا۔ 1975ءمےں امارات نے اوپیک کی رکنیت حاصل کر لی۔ 1976ءمےں امارات کی فوج کو مشترک و متحد رکھنے کے لئے سپریم ڈیفنس کونسل بنائی گئی۔ جبل عالی کے مقام پر نئی آئل ریفائنری کھولی گئی۔
فروری 1979ءمےں راس الخیمہ بھی متحدہ عرب امارات مےں شامل ہوگئی۔ شیخ زائد بن سلطان النہیان ایک معتبر اور قابل احترام لیڈر کی حیثیت سے دنیائے اسلام مےںابھرے۔
خلیج کی پہلی جنگ کے دوران امارات نے اتحادی افواج کو مکمل اعانت فراہم کی اور عراق مےں اپنا سفارت خانہ بند کر دیا۔ یہ سفارت خانہ 2000ءمےں دوبارہ کھولا گیا۔ 2003ءمےں امریکہ نے عراق پر حملہ کیا تو اس دوران بھی اسے امارات کا مکمل تعاون حاصل رہا۔ 
نومبر 2004ءمےں متحدہ عرب امارات کے بانی اور 1971ءسے فیڈریشن کے صدر چلے آرہے شیخ زائد بن سلطان وفات پا گئے اور آئین کے مطابق امارات کے حکمرانوں کی سپریم کونسل نے ان کے بیٹے خلیفہ بن زائد النہیان کو نیا امیر منتخب کر لیا۔ 

Saturday, 1 September 2012

مالی Mali History


مالی
Mali
آزادی، 22ستمبر 1960ئ۔ سرکاری نام، جمہوریہ مالی۔ سرکاری زبان، فرانسیسی۔ طرز حکومت، نیم صدارتی جمہوریہ۔ کرنسی، ویسٹ افریقن سی ایف اے فرانک۔ فی کس آمدن 1126ڈالر۔ کل رقبہ، 1240192مربع کلومیٹر۔ دارالحکومت، بماکو۔ اہم شہر، موپتی، گیز، سیگو، ٹمبکٹو۔ آبادی، 11995402 (تخمینہ جولائی 2007ئ)
محل وقوع
مالی براعظم افریقہ مےں واقع ہے۔ یہ سب سے بڑا افریقی اسلامی ملک ہے اور افریقہ کے مغرب مےں واقع ہے۔ اس کے مغرب مےں موریطانیہ، سینی گال، جنوب مےں گنی، کوت دیوور اور برکینا فاسو، مشرق مےں نائیجر اور شمال مےںالجزائر واقع ہےں۔ ملک کی سطح مرتفاعی ہے۔ یہاں موسم گرمیوں مےں سخت گرم ہوتا ہے۔ جولائی اور اگست بارشوں کے مہینے ہےں۔
لوگ
90فی صد لوگ مسلمان ہےں جن مےں 50فی صد 15سال سے کم افراد ہےں۔ سیاہ نسل اور سفید نسل کے لوگ اکٹھے ہےں۔ نسلی اعتبار سے بمبارا، میلینک اور سرکولی 50فی صد اور پیول 17فی صد، وولٹک 12فی صد، سنگھائی 6فی صد، توارک اور مور 5فی صد ہےں۔ فی مربع میل مےں 17افراد رہتے ہےں۔ شرح خواندگی 25فی صد ہے۔ مردوں کی اوسط عمر 45سال اور عورتوں کی 47سال ہے۔ 4215افراد کے لئے ہسپتال کا ایک بستر اور 283افراد کے لئے ایک ڈاکٹر میسر ہے۔
وسائل
72فی صد لوگ زراعت سے وابستہ ہےں۔ 2فی صد رقبہ پر کاشت ہے۔ چاول، مکئی، کپاس، آلو، گندم، جوار، مونگ پھلی اورباجرہ قابل ذکر اجناس ہےں۔ بڑے پیمانے پر ماہی گیری اور مویشی پالنے کا کام ہوتا ہے۔
ملک کی اہم معدنیات مےں سونا، نمک، باکسائٹ، یورنیم، لوہا، تانبا، مینگانیز اور فاسفیٹ شامل ہےں۔ محدود پیمانے پر صنعتیں ہےں۔ 12فی صد لوگ اس کام سے وابستہ ہےں۔ کپڑا۔ سگریٹ، دیا سلائیاں، کمبل، ٹافیاں، غذاﺅں کو ڈبہ بند کرنا، ماہی گیری، چینی، اور چمڑے کی مصنوعات شامل ہےں۔ ریلوے لائن 401میل لمبی ہے۔ ہزاروں میل لمبی سڑکیں ہےں اور ملک کی اپنی ایئر لائن بھی ہے۔
اہم درآمدات مےں چینی اور اشیائے خوردنی، موٹر گاڑیاں، مشینری اور پٹرولیم پروڈکٹس شامل ہےں جبکہ برآمدات مےں مونگ پھلی، خشک پھلی، مویشیوں کی کھالیں، مویشی اور کپاس کے نام گنوائے جا سکتے ہےں۔
تاریخ
یہ ملک صدیوں سے اسلامی تہذیب و تمدن کا گہوارہ چلا آتا ہے۔ ٹمبکٹو اس ملک مےں اہم حیثیت رکھتا ہے اور اسلامی تاریخ مےں بھی۔ 1828ءمےں یہاں فرانس نے قبضہ کر لیا اور علاقہ فرانسیسی سوڈان کہلانے لگا۔ 1946ءمےں یہاں کے لوگوں کو محدود خودمختاری مل گئی۔ 28نومبر 1958ءکے ریفرنڈم کے نتیجے مےں اس ملک اور سینی گال مےں یونین قائم ہوئی۔ 20اگست 1960ءکو علیحدگی ہوگئی۔
22ستمبر 1960ءکو فرانسیسی سوڈان کو مالی کا نام دے کر آزاد کر دیا گیا۔ مووبیوکتیا اس کے پہلے صدر بنے۔ 8جون 1963ءکو فرانس کے ساتھ اقتصادی اور ثقافتی معاہدے ہوئے۔ مالی اور سینی گال کے درمیان بھی تجارت اور آمد و رفت کے معاہدے ہوئے۔ 19نومبر 1968ءکو فوجی حکومت کی صورت مےں لیفٹیننٹ جنرل موسیٰ طراورے زنام نے اقتدار سنبھالا۔ 1974ءکے آئین مےں صدر کے عہدے کی میعاد پانچ سال مقرر ہوئی اور اسمبلی چار سال کے لئے منتخب ہونا قرار پایا۔ 1969ءمےں شدید قحط سالی نے ملک کو بہت نقصان پہنچایا۔ 1972ءتک ایک لاکھ افراد مارے گئے اور سات لاکھ افراد ہجرت کر گئے۔ 1977ءمےں ملک مےں ہنگامی حالت کا خاتمہ ہوا۔ 1980-81ءمےں برکینافاسو کے ساتھ سرحدی جھڑپیں ہوئیں۔ 26مارچ 1991ءکو صدر موسیٰ طراورے کے اقتدار کا سورج ڈوب گیا۔ کرنل احمد وتو مناتی برسر اقتدار آئے مگر وہ بھی زیادہ دیر حکومت نہ کر سکے۔ 1992ءمےں عمر کنارے ملک کے صدر بن گئے۔ اس دوران 1991ءمےں 29مارچ کو فوجی جنتا کی جانب سے سرکاری ہینڈ آﺅٹ جاری کیا گیا کہ ملک مےں نو ماہ کے اندر انتخابات ہوں گے۔ 12اپریل کے روز مسٹر سواناسا کو وزیراعظم بنایا گیا۔ 
مئی 1997ءمےں دوسرے کثیر جماعتی انتخابات ہوئے جن مےں صدر عمر کونرے دوسری بار مالی کے صدر منتخب ہوئے۔ انہوں نے مالی کی بحران مےں مبتلا معیشت کو بڑے تدبر سے سنبھالا دیا اور بین الاقوامی شہرت حاصل کی۔ ان کی باشعور پالیسیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ مالی کپاس پیدا کرنے والا دوسرا بڑا افریقی ملک بن گیا۔ عمرکونرے اپنی مدت پوری کرنے کے بعد بہ مطابق آئین سبکدوش ہوگئے۔
جون 2002ءکے انتخابات مےں احمد وطومانی طورے صدر منتخب ہوئے۔ انہی کی کوششوں سے 1991ءمےں وہ بغاوت رونما ہوئی تھی جس نے مالی کو فوجی حکمرانی سے نجات دلوائی۔ 

مالدیپ Maldives History


مالدیپ
Maldives
آزادی، 26جولائی 1965ئ۔ سرکاری نام، جمہوریہ مالدیپ۔ سرکاری زبان، دھی ویہی۔ طرز حکومت، صدارتی جمہوریہ۔ کرنسی، مالدیپی روفیہ۔ فی کس آمدن، 4950ڈالر۔ کل رقبہ، 298مربع کلومیٹر۔ دارالحکومت مالے۔ اہم شہر، سینو، خریدو، ڈھگری۔ آبادی، 309000 (تخمینہ 2009ئ)
محل وقوع
جنوبی ایشیا مےں واقع یہ ملک بحر ہند کے تقریباً دو ہزار چھوٹے چھوٹے جزیروں پر مشتمل ہے۔ اس کا قریب ترین ہمسایہ بھارت 95کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ دوسرا ہمسایہ سری لنکا 670میل دور ہے۔ کسی جزیرے کا رقبہ 5مربع میل سے زیادہ نہیں ہے۔ یہاں کی آب و ہوا گرم مرطوب ہے۔ اوسط درجہ حرارت 80فارن ہائٹ تک رہتا ہے۔
لوگ
یہاں کی سو فیصد آبادی سنی العقیدہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ دارالحکومت کے علاوہ تین جزائر ایسے ہےں جہاں کی آبادی ہزار سے زیادہ ہے۔ سنہالیوں کے علاوہ اوڑی اور عربی نسل لوگ یہاں رہتے ہےں۔ 22فی صد لوگ شہروں مےں رہتے ہےں، عورتوں کی اوسط عمر 65برس اور مردوں کی 61برس ہے۔ 95فی صد لوگ پڑھے لکھے ہےں۔
وسائل
لوگ کاشت کاری کرتے ہےں اور 10فی صد افراد اس پیشے سے وابستہ ہےں۔ زراعت کی آمدنی کل قومی پیداوارکا 4فی صد ہے۔ ناریل، سنگترہ، میٹھا، کیلا، انناس، لیموں اور ارنڈ کاشت کئے جاتے ہےں۔ دیگر زرعی اجناس بیرونی ممالک سے پوری کی جاتی ہےں۔ سب سے بڑا ذریعہ آمدن اس ملک کا ماہی گیری ہے۔ 98.2 فی صد برآمدات ماہی گیری سے حاصل ہوتی ہے۔ اس کے بعد سیاحت دوسرا بڑا آمدن کا ذریعہ ہے۔ گھونگوں سے بھی اچھی خاصی آمدن ہوتی ہے۔
پانی کا ذریعہ بارشیں ہےں۔ یہاں مختلف اقسام کی چھوٹی چھوٹی صنعتیں قائم ہےں۔ ناریل کے ریشے کی صنعت سب سے بڑی صنعت ہے۔ عورتیں گھروں مےں چٹائیاں بنتی ہےں۔ سپیوں اور گھونگوں سے رنگ برنگی اشیاءتیار ہوتی ہےں۔ بحری جہاز رانی کی صنعت بھی ترقی کر رہی ہے۔ 1958ءمےں یہاں جہاز رانی شروع ہوئی۔ اس کا بحری بیڑہ بہت بڑا ہے۔ کل تجارت اسی کے ذریعے ہوتی ہے۔ بحری کشتیوں، موٹربوٹوں اور لانچوں کے ذریعہ جزائر کے درمیان آمد و رفت ہے۔ مالدیپ کی اپنی ہوائی سروس بھی ہے اور روزانہ اخبارات بھی شائع ہوتے ہےں۔
تاریخ
یہاں سب سے پہلے بدھ مت کے پیروکار رہتے تھے۔ ایک بزرگ ابوالبرکات یوسف البریری کی وجہ سے یہاں کا راجہ مسلمان ہوگیا اور ان کی وجہ سے رعایا مسلمان ہوئی۔ بدھ مت کے آثار اب بھی موجود ہےں۔ سلطان محمد بن عبداللہ کے عہد مےں یہاں اسلام پھیلا پھولا۔ اس کے بعد مالکہ رہندی کبادی کلاغد المعروف بہ خدیجہ نے اقتدار سنبھالا۔ وہ پہلی مسلمان حکمران خاتون تھی۔ ملکہ خدیجہ کے بعد سلطان علی (1513-1512) یہاں کا حکمران رہا۔ اس کے بعد سلطان حسن نہم اور سلطان علی ششم یہاں کے حکمران بنے۔
1518ءمےں ان جزائر پر پرتگالیوں نے قبضہ کر لیا۔ سترہویں صدی مےں سری لنکا کے حاکم ولندیزیوں نے اس پر قبضہ کر لیا۔ 1887ءمےں ہونے والے ایک معاہدے کے تحت برطانیہ کو ہندوستان کے ساتھ ساتھ مالدیپ کا بھی حکمران تسلیم کر لیا گیا۔
1932ءمےں سلطان شمس الدین سکندر نے ملک کو نیا آئین دیا۔ انگریزوں نے 1939ءمےں یہاں ہوائی اڈہ اور بحری اڈہ تعمیر کیا۔ 1948ءمےںحکومت برطانیہ کے ساتھ ایک اور معاہدہ ہوا جس مےں قرار پایا کہ برطانیہ مالدیپ کے داخلی امور مےں مداخلت نہیں کرے گا اور اس کے بدلے اسے جزیرہ گان مےں ایک ہوائی اڈہ قائم کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
1965ءمےں وزیراعظم ابراہیم ناصر کی قیادت مےں یہ ملک آزاد ہوا۔ 1968ءتک یہاں بادشاہت قائم رہی۔ 29مارچ 1979ءتک برطانوی مکمل طور پر یہاں سے چلے گئے۔ 1978ءمےں ابراہیم ناصر کے استعفیٰ کے بعد عبدالقیوم مامون صدر بنے۔
1990ءمےں جمہوری اصلاحات کا اعلان ہوا۔ عوامی شرکت کے لئے شوریٰ کے ارکان کی تعداد 15سے بڑھا کر 55کر دی گئی۔ اکتوبر 1993ءمےں صدر مامون کو چوتھی مرتبہ پانچ سالہ میعاد کے لئے صدر منتخب کیا گیا۔ اگلے دونوں انتخابات مےں بھی انہیں ہی کامیابی ملی جس پر ملک مےں مظاہرے ہوئے اور حکومت سے سیاسی اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا۔
دسمبر 2004ءمےں انڈونیشیا کے نزدیک آنے والے خوفناک زلزلے سے سونامی لہریں پیدا ہوئیں جنہوں نے مالدیپ کے تقریباً ہر جزیرے پر تباہی مچائی۔
اکتوبر 2008ءمےں منعقد ہونے والے ملکی تاریخ کے پہلے عوامی انتخابات مےں بالآخر ملک نے ایک نئے صدر کا استقبال کیا اور عبدالقیوم مامون کی جگہ محمد ناشید نئے صدر بنے۔ 

موریطانیہ Mauritnia History


موریطانیہ
Mauritnia
آزادی، 28نومبر 1960ئ۔ سرکاری نام، اسلامی جمہوریہ موریطانیہ۔ سرکاری زبان، عربی، فرانسیسی۔ طرز حکومت، فوجی حکومت۔ کرنسی اوگیا۔ فی کس آمدن، 2052ڈالر۔ کل رقبہ 1030700مربع کلومیٹر۔ دارالحکومت، نواکشوٹ۔ اہم شہر، نوﺅدیبو، قائیدی، کفا، عطار۔ آبادی، 3,069,000 (تخمینہ 2005ئ)
محل وقوع
یہ ملک براعظم مغربی افریقہ مےں واقع ہے۔ اس کے شمال مےں ہسپانوی صحرا اور الجزائر واقع ہےں جبکہ مغرب اور جنوب مشرق مےں مالی، جنوب مغرب مےں سینی گال اور بحیرہ ¿ اوقیانوس واقع ہے۔ سینی گال کا دریا اس کی بیشتر اراضی کو سیراب کرتا ہے۔ شمالی علاقہ آب و گیاہ ہے اور یہ صحارا تک پھیلتا چلا گیا ہے۔ ملک کی آب و ہوا گرم اور خشک ہے۔ کیونکہ ملک کا اکثر حصہ صحرائی ہے۔
لوگ
41فی صد بچے پڑھنے جاتے ہےں۔ خواندگی کا تناسب 30فی صد ہے۔ 99.4فیصد لوگ مسلمان ہےں۔ ایک مربع میل مےں 5افراد آباد ہےں۔ 4فی صد لوگ شہروں مےں رہتے ہےں۔ 80فی صد لوگ بربر ہےں۔ حبشیوں کی تعداد بیس فی صد ہے۔ مورمکوف 6.7فی صد، سولکے 2.8 فیصد، پولار ایک فی صد، دیگر 7.8فیصد لوگ آباد ہےں۔ زیادہ تر عرب ان لوگوں کی اولاد ہےں جو نویں صدی مےں یہاں اسلام کو لائے۔ مردوں کی اوسط عمر 44سال اور عورتوں کی پچاس سال ہے۔ شرح اضافہ آبادی 3.0فی صد ہے۔ 1217افراد کے لئے ایک بستر 1928افراد کے لئے ایک ڈاکٹر ہے۔ اطفال مےں شرح اموات 94فی ہزار ہے۔
وسائل
47فی صد لوگ زراعت سے وابستہ ہےں۔ زراعت جنوبی علاقے مےں ہوتی ہے۔ کل قومی پیداوار مےں زراعت کا 34فی صد حصہ ہے۔ اہم زرعی پیداواروں مےں کھجوریں، گوند، باجرہ، مونگ پھلی، شکرقندی، جو، گندم، تمباکو، چاول اور جوار شامل ہےں۔
لوہے اور تانبے کے بڑے ذخائر موریطانیہ مےں پائے جاتے ہےں۔ اس کے علاوہ نمک اور جپسم کے یہاں وسیع ذخائر موجود ہےں۔ تمام تر صنعتیں دارالحکومت نواکشوٹ مےں قائم ہےں۔ چینی، کپڑا، سمندری پانی صفائی، خوراک کو ڈبوں مےں بند کرنا اور کان کنی اہم صنعتیں ہےں۔
936کلومیٹر لمبی ریلوے لائن یہاں موجود ہے اور 5000میل لمبی سڑکیں۔ اہم درآمدات مےں چاول، چائے، اشیائے صرف، ٹرانسپورٹ کا سامان، ٹیکسٹائلز، پٹرولیم پروڈکٹس اور عمارتی سامان شامل ہےں جبکہ برآمدات مےں تانبا، آئرن، جپسم، نمک، مویشی اور مچھلی شامل ہےں۔
تاریخ
اس علاقے مےں مسلمانوں کی آمد مرابطین کے عہد حکومت مےں ہوئی اور ان کے توسط سے یہاں کے افریقی قبائل مشرف بہ اسلام ہوئے۔ چودہویں اور پندرہویں صدی مےں یہاں مصر کے ایک عرب قبیلے کا اثر و نفوذ رہا۔ یہ قبیلہ آہستہ آہستہ پورے علاقے پر قابض ہوگیا۔ سترہویں صدی مےں اس قبیلے کے لوگوں نے بربروں کو شکست دی۔
15ویں صدی کے آخر مےں پرتگالی یہاں حکمران ہوگئے۔ ان سے فرانسیسیوں نے اقتدار حاصل کیا۔ انگریزوں اور ولندیزیوں نے اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش مگر ناکام رہے۔ 1920ءمےں یہ فرانس کی نوآبادی بنا۔ 1958ءمےں فرانس نے اسے داخلی خودمختاری دے دی۔ 28نومبر 1960ءکو یہ ملک آزاد ہوگیا۔
1966ئ، 1971ءاور 1976ءمےں مختارالدادہ وزیراعظم بنے اور بعدازاں صدر بن گئے۔ 1974ءمےں ہسپانوی صحرا کو تقسیم کرنے کے سلسلے مےں موریطانیہ نے مراکش کے ساتھ الحاق کیا اور 16اپریل کو ہسپانوی نوآبادی کے تیسرے جنوبی حصہ کو اپنی مملکت مےں شامل کر لیا۔ اس سلسلہ مےں پورلیساریوگوریلوں سے فوج کی جھڑپیں ہونے لگیں۔ الجزائر کی افواج نے ان کی مدد کی۔ 9جولائی 1978ءلیفٹیننٹ کرنل مصطفی اولد سالک نے صدر مختارالدادہ کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ جولائی 1978ءمےں پولیساریو گوریلوں نے یک طرفہ طور پر موریطانیہ سے جنگ بندی کر دی۔ 3جون 1979ءکو صدر سالک کے مستعفی ہونے پر کرنل محمد محمود الوڈالی صدر بنے اور محمد نواز کھونو ہنڈالا وزیراعظم۔
15اگست 1979ءکو پورلیساریو گوریلوں کے ساتھ معاہدہ امن طے پایا جس کے تحت موریطانیہ مغربی صحرا کے علاقے سے اپنے دعویٰ سے دستبردار ہوگیا اور مراکش کے ساتھ فوجی معاہدہ ختم کر دیا۔ 4جنوی کوہنڈالا نے لولی کا تختہ الٹ دیا اور صدر بن گئے۔ مارچ 1980ءمےں فوجی کونسل نے اسلامی نظام کے قیام کا اعلان کیا۔ 1986ءمےں شراب نوشی پر پابندی عائد کر دی گئی۔ اکتوبر 1987ءمےں صدر کے خلاف ایک زبردست بغاوت ہوئی مگر کچل دی گئی۔ 1988ءمےں دارالحکومت مےں فسادات ہوئے۔ بعدازاں حکمرانوں کو بلدیاتی انتخابات کروانا پڑے۔ 1989ءمےں سینی گال کے ساتھ سرحدی جنگ ہوئی۔
12جولائی 1991ءکو فوجی حکومت کے پیش کردہ آئین پر ریفرنڈم ہوا جس مےں کثیر جماعتی نظام ایک پارلیمنٹ اور سینٹ کی تشکیل کا وعدہ ہوا تھا۔ 97فی صد ووٹروں نے اس کے حق مےں رائے دی۔ صدر کا عہدہ چھ سال کے لئے تھا۔ 1992ءمےں ملک کے پہلے کثیر جماعتی صدارتی انتخابات ہوئے جو کرنل اولوسیدی احمد طیہ نے جیت لئے۔ تاہم مخالفین نے ان پر دھاندلی کے الزامات لگائے۔ 2003ءاور 2004ءمےں احمد طیہ کے خلاف بغاوتیں ہوئیں جو ناکام رہیں۔ ان بغاوتوں کی وجہ احمد طیہ کی طرف سے اسرائیل اور امریکہ کی حمایت بتائی گئی۔
3اگست 2005ءکے روز موریطانیہ کی فوج اور صدارتی محافظ دستے کے ارکان نے دارالحکومت کے اہم مقامات پر قبضہ کر لیا اور سید احمد طیہ کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ احمد طیہ اس وقت سعودی عرب کے شاہ فہد کے جنازے مےں شرکت کے سلسلے مےںملک سے باہر تھے۔ انہیں اس کے بعد آج تک ملک واپس آنے کا موقع نہیں مل سکا۔ وہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہےں۔ نئی فوجی حکومت خود کو ”ملٹری کونسل برائے انصاف و جمہوریت“ کے نام سے پکارتی ہے۔ کرنل ایلی اولد محمد وال اس کونسل کے قائد کی حیثیت سے سامنے آئے۔ سیاسی قیدیوں کو رہا کر دیا گیا اور سیاسی فضا مےں چھایا ہوا تناﺅ ختم کر دیا گیا۔ جون 2006ءمےں ایک نیا آئین منظور کیا گیا۔ مارچ 2007ءمےں انتخابات ہوئے اور سیدی اولد شیخ عبداللہی کو صدر منتخب کر لیا گیا۔ محمد وال سبکدوش ہوگئے۔
6اگست 2008ءکے روز اس حکومت کے خلاف بھی فوجی بغاوت ہوئی اور اس کا تختہ الٹ دیا گیا۔ کہا جا رہا ہے کہ اس انقلاب کو عوام کی حمایت بھی حاصل ہے۔
٭٭٭٭٭٭

Thursday, 30 August 2012

Libya History


لیبیا
Libya
آزادی، 24دسمبر 1951ئ۔ سرکاری نام، الجماہیریة العربیة البیة الشعبیة الاشعراکیة العظمیٰ۔ سرکاری زبان، عربی۔ طرز حکومت، جمہوریہ۔ کرنسی، دینار۔ فی کس آمدن، 14533ڈالر۔ کل رقبہ 1759541مربع کلومیٹر۔ دارالحکومت، طرابلس۔ اہم شہر، بن غازی، مسوراتا، الزائیوہ، طبرق، اجدابیہ۔ آبادی، 6420000 (تخمینہ 2009ئ)
محل وقوع
لیبیا براعظم افریقہ مےں واقع ہے۔ اس کے شمال مےں بحیرہ ¿ روم، مشرق مےں مصر، جنوب مشرق مےں سوڈان، جنوب مےں چاڈ اور نجد، مغرب مےں الجزائر اور شمال مغرب مےں تیونس واقع ہےں۔ ساحل ایک ہزار ایک سو میل لمبا ہے۔ جبل سودا، الاسودلحروج اور جبل نفوسہ پہاڑی سلسلے ہےں۔ 92فی صد حصہ ریگستانی یا نیم ریگستانی ہے۔ اس کا ایک مقام عزیزیہ دنیا کا گرم ترین علاقہ ہے۔ موسم گرما مےں درجہ حرارت 100سے 125درجے فارن ہائیٹ تک ہوتا ہے۔ مجموعی طور پر آب و ہوا گرم اور خشک ہے۔ تاہم ساحلی علاقوں کا موسم معتدل رہتا ہے۔ صحرائی علاقوں مےں بارشیں نہ ہونے کے برابر ہےں۔
لوگ
یہاں مسلمانوں کی آبادی 97فیصد ہے۔ نسلی اعتبار سے بربر اور عرب نژاد باشندے بھی 97فیصد ہےں۔ بقیہ تین فیصد مےں یونانی، مالٹائی اور اطالوی شامل ہےں۔ آبادی مےں اضافے کی شرح 2.3فیصد سالانہ ہے۔ اطفال مےںاموات کی شرح 30.8 فی ہزار ہے۔ اوسط عمر 75سال ہے۔ مردوں مےں یہ شرح 73سال اورخواتین مےں 77سال ہے۔ شرح خواندگی 95.4فیصد ہے۔ مردوں مےں یہ شرح 96.9فیصد ہے اور خواتین مےں 94فیصد ہے۔
وسائل
ملک کے پانچ فی صد علاقے پر کاشت کاری ہوتی ہے۔ ملک کا ایک بڑا حصہ ریگستان پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ویران ہے۔ مونگ پھلی، زیتون، انگور، کھجوریں، گندم، جو اور ترشادہ پھل اس ملک کی اہم زرعی پیداواریں ہےں۔ لوگ بھیڑ بکریاں بھی پالتے ہےں۔ 31فی صد افراد کاشت کاری کے شعبے سے منسلک ہےں۔
تیل اس ملک کے سب سے بڑی معدنی دولت ہے۔ اس کی وجہ سے یہ ملک دنیا کا 37واں بڑا امیر ملک ہے۔ اس کے علاوہ قدرتی گیس اور جپسم کے وسیع ذخائر بھی یہاں موجود ہےں۔ 27فی صد لوگ صنعت سے وابستہ ہےں۔ 40فی صد ملکی پیداوار صنعت سے حاصل ہوتی ہے۔ زیادہ تر صنعتیں قومی ملکیت مےں ہےں۔ مشروبات، کپڑا، سگریٹ، سیمنٹ، پٹرولیم کی مصنوعات اور قالین بافی اہم صنعتوں مےں شامل ہےں۔ کھاد، پانی سے کشید کر کے تازہ پانی حاصل کرنے کا پلانٹ بن غازی کے ساحل پر واقع ہے۔ 5لاکھ کاریں اور تقریباً اتنی ہی کمرشل گاڑیاں ہےں۔ سڑکوں کی لمبائی تیس ہزار کلومیٹر ہے۔ ریلوے کا نظام قائم نہیں۔ بن غازی اور طرابلس بین الاقوامی ہوائی اڈے اور اہم بندرگاہیں ہےں۔
اہم درآمدات مےں خوراک، کیمیکلز مشینری اور ٹرانسپورٹ شامل ہےں جبکہ برآمدات مےں اون، زیتون کا تیل، کھالیں، ترشادہ پھلوں اور قدرتی گیس کو شمار کیا جاسکتا ہے۔
تاریخ 
630ق م مےں یونانی سب سے پہلے یہاں آئے۔ اس وقت اس علاقے کو سائریکا کہتے تھے۔ اس دوران فینیقوں نے یہاں حکومت قائم کی۔ پہلی صدی مےں رومی یہاں آئے۔ 642ءمےں اسے عربوں نے فتح کیا۔ 1551ءمےں عثمانی سلطنت کا حصہ بن کر یہ علاقہ ترکوں کے زیر سایہ آگیا اور یہ 1910ءتک اس ملک کا حصہ رہا۔ 1911ءمےں اس پر اٹلی نے قبضہ کر لیا مگر سنوسی قبائل نے غیر ملکی فوجوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ 1941-42ءمےں لیبیا دوسری عالمگیر جنگ کا اکھاڑہ بن گیا۔ اس جنگ مےں لیبیا کو بغیر کسی وجہ سے شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ اس جنگ سے برطانوی جنرل منٹگمری، جرمن رومیل اور امریکی جنرل آئزن ہاور نے عالمی شہرت حاصل کی۔ 1942ءمےں دوسری عالمگیر جنگ کے دوران انگریزوں نے سنوسیوں سے وعدہ کیا کہ جنگ کے بعد انہیں آزاد کر دیں گے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ 
انہیں آزادی 24دسمبر 1951ءکے روز ملی اور 2جنوری 1952ءکو آزادی کا عمل مکمل ہوگیا۔ شاہ ادریس سنوسی یہاں کے حکمران بنے۔ یکم ستمبر 1969ءکو کرنل معمر قذافی نے ان کا تختہ الٹ کر ملک کے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور اب تک وہی حکمران ہےں۔
1972ءمےں مصر اور لیبیا کے وفاق کا قیام اور 12جنوری 1974ءکو تیونس لیبیا کا ادغام کرنے کی کوششیں ہوئیں مگر کامیاب نہ ہو سکیں۔ 1977ءمےں امریکہ کے طیاروں نے خلیج سدرہ کی جھڑپ مےں لیبیا کے دو جنگی طیارے مار گرائے۔ 6جنوری 1986ءکو امریکہ نے اس ملک پر اقتصادی پابندیاں لگا دیں۔ امریکہ لیبیا پر جوہری اور کیمیائی ہتھیار تیار کرنے کا الزام لگاتا رہا ہے۔ اگست 1989ءکے معاہدے کی رو سے اوزوکی متنازعہ پٹی کا معاملہ بین الاقوامی عدالت انصاف مےں پیش کیا گیا جس پر 1993ءمےں لیبیا کے خلاف فیصلہ دیا گیا۔ 
21دسمبر 1988ءکے روز امریکہ کا ایک مسافر بردار بوئنگ 747سکاٹ لینڈ کے اوپر سے پرواز کرتے ہوئے مار گرایا گیا جس کے تمام 259مسافر ہلاک ہوگئے۔ امریکہ نے لیبیا کے محکمہ جاسوسی کے دو افسران کو اس کا ذمہ دار قرار دیا لیکن لیبیا نے انہیں امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ 1992ءمےں اقوام متحدہ کی جانب سے لیبیا پر تجارتی اور فضائی ٹریفک کی پابندیاں عائد کر دی گئیں۔
5اپریل 1999ءکے روز بالآخر لیبیا نے امریکہ کا مطالبہ مان لیا اور دونوں افسروں عبدالباسط علی اور خلیفہ مہمہ کو اقوام متحدہ کے حوالے کر دیا۔ لیبیا کے تعاون کی وجہ سے اقوام متحدہ نے بھی اپنی پابندیاں اٹھا لیں۔ اس کے ساتھ یورپ کی آئل کمپنیوں نے فی الفور لیبیا سے رابطے کرنا شروع کر دیئے۔
دسمبر 2003ءمےں امریکہ اور برطانیہ کے خفیہ مذاکرات کے بعد کرنل قذافی نے یہ کہہ کر سب کو حیرت زدہ کر دیا کہ لیبیا وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیار کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ جون 2004ءمےں چوبیس سال کے بعد امریکہ اور لیبیا کے درمیان دوبارہ سفارتی تعلقات قائم ہوگئے۔ 
٭٭٭٭٭

Wednesday, 29 August 2012

Lebanon History


لبنان
Lebanon
آزادی، 22نومبر 1943ئ۔ سرکاری نام، جمہوریہ لبنان۔ سرکاری زبان، عربی، فرانسیسی۔ طرز حکومت، پارلیمانی جمہوریہ۔ کرنسی، لبنانی پاﺅنڈ۔ فی کس آمدن، 13373ڈالر۔ کل رقبہ، 10452مربع کلومیٹر۔ دارالحکومت، بیروت۔ اہم شہر، طرابلس، زاہلے، بابدا، بعلبک، جزین۔ آبادی، 4,224,000 (تخمینہ 2009ئ)۔
محل وقوع
یہ مشرق وسطیٰ کا سب سے چھوٹا ملک ہے۔ براعظم مغربی ایشیاءمےں واقع ہے۔ اس کے شمال اور مشرق مےں شام، جنوب مےں اسرائیل اور مغرب مےں بحیرہ روم واقع ہےں۔ اس کی شمالاً جنوباً لمبائی 135میل اور شرقاً غرباً چوڑائی 55میل ہے۔
جبل لبنان اہم پہاڑی سلسلہ۔ بلند ترین چوٹی قرنات السودا 10131 فٹ بلند ہے۔ عاصی اور لیطافی یہاں کے مشہور دریا ہےں۔ اس کی آب و ہوا بحیرہ روم سے ملتی جلتی ہے۔ گرمیاں خشک اور بارشیں کم اور سردیوں مےں سردی کم پڑتی ہے۔ یہ براعظم ایشیا اور یورپ کے درمیان واقع ہے۔
لوگ 
یہاں کے 75فی صد لوگ مسلمان ہےں جبکہ 25فی صد عیسائی ہےں۔ نسلی اعتبار سے 95فیصد باشندے عرب جبکہ 4 فیصد آرمینیائی ہےں۔ لوگ عرب کے علاوہ فرانسیسی، جرمن، اطالوی، آرمینی اور انگریزی زبانیں بول اور سمجھ لیتے ہےں۔ 
5سال کے بچے کو پڑھنے کے لئے سکول بھیجنا لازمی ہے۔ یہ مشرق وسطیٰ کا سب سے زیادہ خواندہ علاقہ ہے۔ 95فیصد بچے سکولوں مےں جاتے ہےں۔ خواندگی کا تناسب 75فی صد ہے۔ مردوں کی اوسط عمر 66سال اور عورتوں کی 71سال ہے۔ آبادی مےں اضافے کی شرح 2.1فیصد سالانہ ہے۔ 263افراد کے حصے مےں ہسپتال کا ایک بستر اور 771افراد کے لئے ایک ڈاکٹر آتا ہے۔ اطفال مےں اموات کی شرح 52فی ہزار ہے۔
وسائل
تر شادہ پھل، سیب، انگور،آلو، چقندر، جو، تمباکو، کیلا، انجیر اور گندم یہاں کی اہم فصلیں ہےں۔ 35فی صد رقبہ زیر کاشت ہے اور 11 فی صد لوگ اس پیشے سے منسلک ہےں۔ خام لوہا، تانبا، چینی مٹی، فاسفیٹ اور اسفالٹ اہم معدنیات ہےں۔ سیاحت اس ملک کی سب سے بڑی صنعت ہے۔ اس کے علاوہ خوراک کو ڈبہ بند کرنا، سیمنٹ، کیمیائی اشیاءاور تیل کی مصنوعات اہم صنعتیں ہےں۔ ریلوے کا نظام کافی وسیع ہے جو شام اور ترکی سے مربوط ہے۔ 6000ہزار میل لمبی سڑکیں ہےں۔ بیروت، طرابلس اور حیرا مشہور بندرگاہیں ہےں۔ 
تاریخ
یہ بہت قدیم ملک ہے۔ اس پر حطیطی، رومی اور بازنطینی حکمران حکومت کرتے رہے۔ ساتویں صدی عیسوی مےں عربوں نے اس کے کچھ حصہ پر قبضہ کر لیا۔ صلیبی جنگوں کی فتح کے بعد سے پہلی جنگ عظیم تک اس پر ترک حکمران رہے۔ 
جنگ عظیم اول مےں جب خلافت عثمانیہ بکھر گئی اور اس کے زیر اقتدار علاقوں کو الگ الگ ریاستوں مےں تقسیم کر کے یورپی ممالک نے ان پر قبضہ جما لیا تو شام کا شمالی حصہ فرانس کے تسلط مےں چلا گیا۔ شام کا جنوبی حصہ، جس مےں فلسطین کا علاقہ شامل تھا، برطانیہ نے اپنے قبضے مےں لے لیا کیونکہ برطانیہ اعلان بالفور کے تحت یہودیوں سے فلسطین کے علاقے مےں ان کی حکومت قائم کرنے کا وعدہ کر چکا تھا۔
1943ءتک لبنان کسی مستقل ملک کا نام نہ تھا۔ فرانس نے اپنی نو آبادیاتی مصلحتوں کے تحت شام کے پانچ اضلاع کو ملا کر لبنان کے نام سے ایک نئی ریاست قائم کی۔ 1944ءمےں جنگ عظیم دوم مےں شکست کھانے کے بعد فرانس نے شام اور اپنی ساختہ نئی مملکت لبنان کے عوام کو الگ الگ اختیارات حکومت دے دیئے۔ تاہم اس کے فوجی دستے 1946ءتک دونوں ملکوں مےں موجود رہے۔
1958ءمےں صدر کمال شمعون کی مغرب نواز پالیسی کی مخالفت نے بغاوت کا روپ دھار لیا۔ بغاوت اتنی شدید کہ صدر شمعون نے امریکہ سے فوجی امداد کی درخواست کی۔ نئی حکومت بننے تک امریکہ کی فوجیں لبنان مےں رہیں۔ 
1970ءمےں سلیمان صدر منتخب ہوئے اور رشید کرامی کی جگہ وزارت عظمیٰ سلام کے حصے مےں آئی۔ 1972ءمےں میونخ اولمپکس کے کھلاڑیوں کے قتل کا انتقام لینے کے لئے اسرائیل نے لبنان مےں فلسطین کے گوریلا ٹھکانوں پر حملہ کیا۔ 1973ءمےں اسرائیلی چھاپہ ماروں نے بیروت پر حملہ کیا اور تین گوریلا لیڈر ہلاک کر دیئے۔ اس واقعے کے نتیجے مےں بیروت مےں گوریلوں اور لبنانی فوج کے درمیان لڑائی شروع ہوگئی جو دو ہفتوں تک جاری رہی۔ وزیراعظم سلام کو استعفیٰ دینا پڑا۔ نئے وزیراعظم تقی الدین صلح نے مصالحت کی کوشش کی لیکن گوریلوں کی سرگرمیاں اور اسرائیلی فوجی کارروائیاں اکتوبر 1973ءکی عرب اسرائیل جنگ کے بعد بھی جاری رہیں۔
1975ءمےں عیسائیوں، مسلمانوں اور فلسطینی گوریلوں کے مابین جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ 1976ءمےں الیاس سارکس لبنان کے صدر بنے۔ 19اپریل 1981ءکو عیسائی ملیشیا کے سربراہ میجر سعد مراد جنوبی لبنان کے صدر بنے اور اس کا نام آزاد لبنان رکھا۔ اس پر ان کے اوپر غداری کا مقدمہ چلا۔ یکم اپریل 1981ءکے روز شامی فوجوں اور عیسائی ملیشیا کے مابین پھر جھڑپیں ہوئیں۔ 24جولائی 1981ءکو اسرائیل اور فلسطینی گوریلوں کے درمیان جنگ بندی کا سمجھوتہ ہوا مگر اس کے باوجود جنگ جاری رہی۔ 10جون 1982ءکو اسرائیلی فوجیں بیروت کے نواح تک پہنچ گئیں۔ اس جنگ مےں ہزاروں فلسطینی شہید ہوئے اور بالآخر جنوبی لبنان فلسطینیوں کو خالی کرنا پڑا۔ 14ستمبر 1982ءتک تمام فلسطینی لبنان سے چلے گئے۔ 
مئی 1985ءمےں عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ 1986ءمےں پی ایل او کے اڈوں پر اسرائیل نے فضائی حملے کئے۔ یکم جون 1987ءکو وزیراعظم رشید کرامی فضائی حادثے مےں جاںبحق ہوگئے۔ 1988ءمےں امین جمائل صدارت سے دستبردار ہوگئے۔ میکائل عون نے اقتدار سنبھالا مگر وزیراعظم سلیم الحوص نے ان کی حکومت کو تسلیم نہ کیا۔ کاسابلانکا، مراکش مےں عرب راہنماﺅںکی کوششوں سے لبنانی پارلیمنٹ کا اجلاس ہوا۔ مارونی عیسائی رینی معوض صدر اور مسلم الحوص وزیراعظم نامزد ہوئے۔ 22نومبر 1989ءمےں صدر کار بم دھماکے مےں ہلاک ہوگئے۔ ان کی جگہ الیاس ہراوی 24نومبر 1989ءکو صدر بنے۔ مئی 1991ءمےں منعقدہ انتخابات مےں عیسائیوں نے حصہ نہ لیا۔ ان کا موقف تھا کہ لبنان سے شامی فوجیں چلی جائیں۔ جنوری 1993ءمےں عیسائی ملیشیاءدو حصوں مےں منقسم ہوگئی۔
3اپریل 1991ءکو بیروت مےں متعین فرانسیسی سفیر نے سابق صدر جنرل عون کو فرانس مےں سیاسی پناہ کی پیش کش کی جو انہوں نے مان لی۔ 27اگست 1991ءکو لبنان حکومت نے جنرل عون کو 5سال لبنان مےں نہ آنے اور سیاست مےں ساری زندگی حصہ نہ لینے کی شرط پر معاف کر دیا۔ لبنانی مسلمان جنرل عون کو قاتل اور جلاد کہتے ہےں۔ لبنان مےں یرغمالیوں کی رہائی اگست 1991ءکے پہلے عشرے مےں شروع ہوئی۔ ایران نے اس سلسلہ مےں اہم کردار ادا کیا۔ ایک صحافی جو 5سال سے یرغمال تھا، رہا کر دیا گیا۔ انہی دنوں مےں امریکی یرغمالی بھی رہا ہوئے۔ اسی سال مےں لبنان نے شام کی پشت پناہی سے تمام پرائیویٹ گوریلا تنظیموں کا خاتمہ کیا اور یوں سولہ سالہ خانہ جنگی ختم ہوئی۔ 
جون 1999ءمےں اسرائیل کی فضائیہ نے جنوبی لبنان پر شدید بمباری کی تاکہ شامی فوج اور حزب اللہ کے گوریلا ٹھکانوں کو ختم کیا جاسکے۔ مئی 2000ءمےں اٹھارہ سال بعد اسرائیل نے لبنان سے اپنی فوج واپس بلا لی۔ 2001ءمےں شام نے بھی بیروت اور اردگرد کے علاقے سے اپنے پچیس ہزار فوجی واپس بلا لئے تاہم اندرون لبنان مےں پندرہ ہزار شامی فوجی موجود رہے۔
 2004ءمےں لبنان کے شام نواز صدر ایملی لاہود کو مزید تین برس کے لئے صدر منتخب کر لیا گیا۔ فروری 2005ءمےں سابق وزیراعظم رفیق الحریری بم دھماکے مےں ہلاک ہوگئے اور شام پر بین الاقوامی دباﺅ ڈالا جانے لگا کہ وہ لبنان سے اپنی فوج واپس بلا لے۔
2005ءکے انتخابات کے نتیجے مےں حزب اللہ بھی لبنانی حکومت کا حصہ بن گئی تاہم اقوام متحدہ کی طرف سے اس کے عسکریت پسند حصے کو ختم کرنے کی قرارداد منظور ہونے کی وجہ سے ابھی تک اس کی حیثیت کا تعین نہیں ہو سکا۔
12جولائی 2006ءکے روز اسرائیل نے لبنان پر حملہ کر دیا۔ حزب اللہ کے نیم فوجی دستوں نے اسرائیل کی باقاعدہ فوج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور 33دن تک انہیں پیش قدمی کرنے سے روکے رکھا۔ بالآخر اقوام متحدہ نے مداخلت کی اور 14اگست 2006ءکے روز فائر بندی کا معاہدہ ہوگیا۔ اس جنگ نے اسرائیلی فوج کے ناقابل تسخیر ہونے کے تاثر کو پاش پاش کر دیا۔ 
٭٭٭٭٭